کیا ایران کے ساتھ جنگ ٹرمپ اور نیٹو کے درمیان کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں پیدا ہونے والی صورتحال نے نیٹو اتحاد کے مستقبل پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کی جانب سے ایران کے معاملے پر حمایت نہ کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد سے انکار پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے نیٹو کو کاغذی شیر قرار دیا اور کہا کہ وہ کبھی بھی اس اتحاد سے متاثر نہیں رہے اور اب امریکہ کے اس اتحاد سے نکلنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے یورپی اتحادیوں کو بزدل قرار دیتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی ہے۔

گزشتہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ نیٹو کے لیے سب سے بڑا بحران تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل گرین لینڈ کو خریدنے کی کوشش، یوکرین جنگ کے دوران پالیسیوں میں تبدیلی اور دفاعی اخراجات نہ بڑھانے پر اتحادیوں کو دھمکیاں دینے جیسے واقعات پہلے ہی اتحاد کی بنیادوں کو ہلا چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی ممالک نے امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دی تو واشنگٹن کو نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ضرورت کے وقت اتحادی انکار کر دیں تو اس اتحاد کا کیا فائدہ ہے۔

نیٹو کے سابق امریکی سفیر آئیوو ڈالڈر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران صدر اور یورپی اتحادیوں کے تعلقات انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور یہ اتحاد کی تاریخ کا بدترین بحران ہے۔ یورپی ممالک اس بات پر ناراض ہیں کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی سے قبل ان سے مشاورت نہیں کی، اس لیے وہ اب اس تنازع میں مزید الجھنے کے حق میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے نیٹو کے ساتھ مکمل وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔ اتحاد کے سربراہ مارک روٹ اسے مضبوط قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جولائی میں انقرہ میں ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کو اس تناؤ کے خاتمے کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹو کو مستقبل میں بھی ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں کے باعث اتار چڑھاؤ کا سامنا رہے گا۔ اس صورتحال نے یورپی ممالک میں اس احساس کو مزید تقویت دی ہے کہ انہیں اپنے دفاع کے لیے خود انحصاری کی جانب بڑھنا ہوگا۔ فرانسیسی وزیر برائے مسلح افواج ایلس روفو نے واضح کیا ہے کہ وہ بحر اوقیانوس اتحاد کے اندر رہتے ہوئے یورپی دفاع کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاکہ اعتماد اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

روس کی شہریوں کو امریکا کے ساتھ حوالگی معاہدے رکھنے والے ممالک کے سفر سے گریز کی تنبیہ

ماسکو نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان ممالک کا سفر کرنے…

31 منٹس ago

سہیل اشرف اسلام آباد کے چیف کمشنر تعینات

وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں انتظامی سطح پر بڑی تبدیلی کرتے ہوئے سہیل اشرف…

36 منٹس ago

ایران جنگ: عرب معیشتوں کو 194 ارب ڈالر کا نقصان اور غربت میں اضافے کا خدشہ

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں…

41 منٹس ago

اسٹیٹ بینک کا نوجوانوں کے لیے بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کھولنے کا نیا فریم ورک جاری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کے روز نوعمر افراد کے لیے بینکنگ اکاؤنٹس اور…

47 منٹس ago

ایران سے جلد انخلا ممکن ہے، ضرورت پڑنے پر دوبارہ واپس آ سکتے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (خبر رساں ادارے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران…

2 گھنٹے ago

پاکستان اور چین کی بحری افواج کی مشترکہ مشقیں ‘سی گارڈین’ کراچی میں اختتام پذیر

پاکستان بحریہ اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی نیوی کے مابین مشترکہ بحری مشقیں سی…

2 گھنٹے ago