ماسکو نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان ممالک کا سفر کرنے سے گریز کریں جن کے امریکہ کے ساتھ حوالگی کے معاہدے موجود ہیں۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک سفری ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار بائیس میں روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے واشنگٹن کی جانب سے انتقامی کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی شہری غیر دانستہ طور پر امریکی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے اکثر پرکشش تجارتی یا سیاحتی پیشکشوں کا جھانسہ دے کر روسی شہریوں کو بیرون ملک بلاتے ہیں اور بعض اوقات تیسرے ملک پہنچتے ہی انہیں حراست میں لے لیا جاتا ہے۔
روسی حکومت کے مطابق، جن شہریوں کو اپنے خلاف امریکی قانونی کارروائی یا پابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے کا خدشہ ہو، انہیں ان ممالک کے سفر سے خاص طور پر بچنا چاہیے۔ ان ممالک میں برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک، کینیڈا، آسٹریلیا، اسرائیل، لاطینی امریکہ کے کئی ممالک، لائبیریا، مراکش اور ایشیا کے متعدد ممالک شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار آٹھ میں تھائی لینڈ سے اسلحہ ڈیلر وکٹر بوٹ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ایک سو سے زائد روسی شہریوں کو اسی طرح امریکہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ وکٹر بوٹ کو اسلحہ کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں امریکہ میں چودہ سال قید کی سزا ہوئی تھی، جنہیں بعد ازاں سن دو ہزار بائیس میں امریکی باسکٹ بال کھلاڑی برٹنی گرائنر کے بدلے رہا کیا گیا تھا۔
قومی گندم نگران کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں گندم کی…
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شب قوم سے ٹیلی ویژن پر براہ…
تہران میں بدھ کے روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بحری کمانڈر کی آخری رسومات کے…
مارچ 2026 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی ترسیل میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔…
وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں انتظامی سطح پر بڑی تبدیلی کرتے ہوئے سہیل اشرف…
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں…