ناسا کے چار آرٹیمس خلابازوں نے زمین اور چاند کے درمیان سفر کا نصف فاصلہ طے کر لیا ہے۔ خلائی ادارے کے مطابق، یہ مشن اپنے طے شدہ لونیار فلائی بائی کی جانب کامیابی سے گامزن ہے۔
جمعہ کی شب مشن کنٹرول کی جانب سے خلابازوں کو پیغام بھیجا گیا کہ اب وہ زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ اہم سنگ میل پرواز کے آغاز کے دو دن، پانچ گھنٹے اور 24 منٹ بعد عبور کیا گیا۔
خلاباز کرسٹینا کوچ نے اس لمحے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے اس موقع پر مسرت محسوس کی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈوکنگ ہیچ سے چاند کا نظارہ انتہائی دلکش اور خوبصورت دکھائی دے رہا ہے۔
ناسا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اورین خلائی جہاز زمین سے 2 لاکھ 19 ہزار کلومیٹر سے زائد کی دوری پر موجود ہے۔ مشن کے اگلے مرحلے میں خلائی جہاز پانچویں دن چاند کی کشش ثقل کے دائرہ کار میں داخل ہوگا۔
اس تاریخی مشن میں امریکی خلاباز کرسٹینا کوچ، وکٹر گلوور، ریڈ وائز مین اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ خلائی جہاز فی الحال فری ریٹرن ٹراجیکٹری پر گامزن ہے، جس کے تحت چاند کی کشش ثقل کو استعمال کرتے ہوئے بغیر اضافی ایندھن کے زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…