امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے خاندان کے دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد کے قانونی رہائشی اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے تھے۔
محکمہ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی ایجنٹوں نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے احکامات پر قاسم سلیمانی کی بھتیجی حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو گرفتار کیا۔ دونوں خواتین اب امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی تحویل میں ہیں، تاہم ان کی موجودہ جگہ کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حمیدہ سلیمانی افشار ایران کی موجودہ حکومت کی کھلی حامی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور پریس رپورٹس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تعریف کی اور امریکہ کو شیطانِ بزرگ قرار دیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حمیدہ کے شوہر پر بھی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اسی کارروائی کے دوران ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی بیٹی اور داماد کے قانونی رہائشی اسٹیٹس بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ دونوں افراد اب امریکہ میں موجود نہیں ہیں اور ان کے مستقبل میں ملک میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ علی لاریجانی رواں سال 17 مارچ کو ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
قاسم سلیمانی، جو پاسداران انقلاب کی غیر ملکی کارروائیوں کے سربراہ تھے، جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ملک کو ایسے غیر ملکی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دے گی جو امریکہ مخالف دہشت گرد رجیم کی حمایت کرتے ہیں۔
ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے…
شمالی افغانستان میں آنے والے پانچ اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں…
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کو مسترد…
بھارت کے شہر حیدرآباد کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے…
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے ملک…
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی صورتحال…