استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کی عمارت کے باہر منگل کے روز پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان طویل مسلح تصادم کے نتیجے میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا یہ سلسلہ شہر کے مرکزی مالیاتی ڈسٹرکٹ میں واقع قونصل خانے کے قریب سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے نزدیک کم از کم دس منٹ تک جاری رہا۔
واقعے کی فوٹیج میں ایک مشتبہ حملہ آور کو سیاہ لباس میں ملبوس دیکھا جا سکتا ہے، جو سیکیورٹی گاڑیوں کے درمیان حرکت کرتے ہوئے خودکار رائفل اور ہینڈ گن سے فائرنگ کر رہا تھا۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد قریبی سڑکوں اور پارکنگ کے علاقوں میں لاشیں دیکھی گئیں۔
ترکی کے وزیر داخلہ مصطفیٰ چیفچی نے تصدیق کی ہے کہ تینوں حملہ آوروں کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے تھا جو مذہب کا استحصال کرتی ہے، اور ان میں سے دو آپس میں بھائی تھے۔ استنبول کے گورنر داؤد گل نے جائے وقوعہ پر میڈیا کو بتایا کہ حملے میں دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
گورنر کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے گزشتہ ڈھائی برسوں سے اس قونصل خانے میں کوئی بھی اسرائیلی سفارتی عملہ موجود نہیں ہے۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی کے باعث اسرائیلی سفارت کاروں نے پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ترکی چھوڑ دیا تھا۔
یہ واقعہ دوپہر کے وقت ایک مصروف شاہراہ کے ساتھ پیش آیا جس کی گونج قریبی بینکوں کے ہیڈ کوارٹرز تک سنی گئی۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے وقت قونصل خانے میں کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔ ترکی، جو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا شدید ناقد ہے، نومبر 2023 سے اپنے سفیر کو واپس بلا چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات عملی طور پر منجمد ہیں۔
بحر الکاہل میں سات روز قبل لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کو امریکی کوسٹ گارڈ…
واشنگٹن (ایجنسیاں) ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر…
راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے زیر اہتمام 274 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک…
دفتر خارجہ نے منگل کے روز مشرقی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات پر ایران…
تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے دفاع کے…