امریکی ریپبلکنز نے ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ریپبلکن ارکان نے کانگریس میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ کے تنازع پر ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل کے خلاف کانگریس میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے دوران سامنے آیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے متفقہ منظوری کے طریقہ کار کے تحت جنگی اختیارات کی ایک قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد ریکارڈ ووٹنگ کے بغیر اسے منظور کروانا تھا، تاہم ریپبلکن اکثریت کے پریذائیڈنگ آفیسر نے اس پر اعتراض اٹھا کر اسے روک دیا۔

واشنگٹن میں قانون سازوں کی عدم موجودگی کے دوران ہونے والا یہ علامتی اجلاس ڈیموکریٹس کے اس غصے کی عکاسی کرتا ہے جو ایک ایسے تنازع پر پایا جاتا ہے جسے کانگریس کی باضابطہ اجازت حاصل نہیں ہے۔ حکیم جیفریز نے اپنے ساتھیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کریں، کیونکہ ان کا موقف ہے کہ حال ہی میں اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی ناکافی ہے اور امریکا کو اس جنگ سے مکمل طور پر دستبردار ہونا چاہیے۔

دوسری جانب ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کے اختیارات کو چیلنج کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اگرچہ کچھ ارکان کانگریس کی نگرانی نہ ہونے پر تشویش کا شکار ہیں، تاہم وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت سے گریزاں ہیں جو فوجی آپریشنز میں رکاوٹ کا باعث بن سکے۔

یہ ناکام کوشش آئندہ ہفتے ہونے والے ایک بڑے معرکے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جب تعطیلات کے بعد قانون سازوں کی واپسی پر ڈیموکریٹس قرارداد پر باقاعدہ ووٹنگ کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حکیم جیفریز پرامید ہیں کہ قرارداد کی منظوری کے لیے چند ریپبلکن ارکان کا ساتھ ہی کافی ہوگا۔ سینیٹ میں بھی اقلیتی رہنما چک شومر اسی طرز کی کوششوں کا اشارہ دے چکے ہیں۔

سن 1973 کے وار پاورز ریزولیوشن کے تحت کانگریس غیر مجاز فوجی تنازع شروع ہونے کے 60 دنوں کے اندر کارروائی کرنے کی پابند ہے۔ اگر ایران کے خلاف جنگ جاری رہتی ہے تو یہ ڈیڈ لائن قانون سازوں پر دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

حکیم جیفریز نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ امریکی عوام ان کے ساتھ ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ انتظامیہ ایسی جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرے جبکہ وہ اپنے شہریوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے واشنگٹن میں ہنگامی مذاکرات کا فیصلہ

واشنگٹن میں لبنان میں جنگ بندی کے قیام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سہ فریقی…

15 منٹس ago

بحرین کے بادشاہ کی جانب سے پاک ایران و امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کی تعریف

بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ…

21 منٹس ago

بر وقت تشخیص اور علاج سے کینسر کے باعث اموات میں 40 فیصد کمی ممکن

پاکستان میں بریسٹ کینسر کے عالمی آگاہی مہینے کے تناظر میں ماہر آنکولوجسٹ ڈاکٹر ثناء…

26 منٹس ago

ایران کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے، وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران ہر قسم کی صورتحال سے…

1 گھنٹہ ago

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی: اسلام آباد کا کلیدی ثالث کے طور پر ابھرنا

ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے ثالثی کے کردار پر پاکستان عالمی…

1 گھنٹہ ago

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات، وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے تناظر…

1 گھنٹہ ago