ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ واشنگٹن کا تہران سے ان کے تمام تر جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کا مطالبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مطالبے میں شہری اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری سرگرمیاں بھی شامل ہیں جنہیں ترک کرنے پر امریکہ بضد ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی فریم ورک میں جوہری عزائم سے مکمل دستبرداری شامل نہیں تھی۔ اس کے برعکس امریکی مطالبات کا تقاضا ہے کہ تہران طبی اور پرامن مقاصد کے لیے بھی جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق چھوڑ دے۔
ایرانی حکام اس تنازع کے دوران مسلسل اس موقف پر قائم رہے ہیں کہ سپریم لیڈر کی جانب سے جاری کردہ مذہبی فتویٰ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی ممانعت کرتا ہے۔
تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنیوا اور عمان میں ہونے والے مذاکرات کے ابتدائی ادوار میں پیش رفت ہوئی تھی اور دونوں فریقین کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین گہرا عدم اعتماد بھی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حالیہ پیش رفت اور بات چیت کے تعطل نے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سی بی ایس نیوز کی سینیئر نامہ نگار…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ ۱۵ اپریل کو طلب کر لیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب…
پوپ لیو چہار دہم نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ…
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک دشمن کے بغیر…
فیصل آباد کے علاقے کھرڑیانوالہ میں گھریلو تنازع پر بیوی اور دو بیٹیوں کو قتل…