جنوبی لبنان کے گاؤں صریفہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سعید خاندان کے گھر میں ایک عزیز کی آخری رسومات کے لیے لواحقین جمع تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیا گیا جب گھر میں موجود افراد دعا میں مصروف تھے۔ حملے میں سات سالہ ایلین سعید شدید زخمی ہوئی جبکہ اس کی دو سال سے کم عمر بہن ٹالن سمیت دیگر افراد کی لاشیں جنوبی شہر صور منتقل کر دی گئی ہیں۔
زخمی ہونے والے ایلین کے دادا ناصر سعید نے بتایا کہ وہ جنازے میں شرکت اور دعا کے لیے جمع تھے کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا جیسے کوئی طوفان آ گیا ہو۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی کارروائیاں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف ہیں اور وہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
علاقے میں کشیدگی کا آغاز دو مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ہوا جس کے بعد اسرائیل نے فضائی اور زمینی کارروائیوں میں تیزی لا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کشیدگی میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ادھر ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنا اخلاقی ذمہ داری ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اضافے کے بعد ہسپتالوں پر شدید دباؤ ہے اور زخمیوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو فوج کا سربراہ مقرر کر دیا…
لاہور ہائی کورٹ نے پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود خلاف ورزیوں کے واقعات کا…
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔…
ہنگری میں سولہ برس تک اقتدار میں رہنے والے قوم پرست رہنما وکٹر اوربان کو…
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپن ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سروے رپورٹ…
امریکی فوج نے مشرقی بحر الکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبہے…