اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بحری ناکہ بندی کے فیصلے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی حکومت اس معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امریکی موقف کی تائید کرتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے دعوی کیا کہ تہران نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد انہیں بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ ایران نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے معاہدے پر عمل نہیں کیا۔
امریکی فوج نے پیر کے روز 1400 جی ایم ٹی سے ایران کی تمام بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تجارتی راستہ ہر صورت میں کھولا جانا چاہیے۔
نیتن یاہو کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نائب صدر نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا مرکزی مطالبہ ایران سے تمام افزودہ یورینیم کا خاتمہ اور مستقبل میں افزودگی کے عمل کو مکمل طور پر روکنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس امریکی مطالبے کو اپنے ملک کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دیا۔
ہنگری میں سولہ سالہ طویل اقتدار کے بعد وکٹر اوربان کا دور ختم ہو گیا…
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات…
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے خطے میں عام انتخابات کے انعقاد کا شیڈول جاری کر…
دنیا کی دوسری سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ، ڈی پی…
بحر الکاہل کے مغربی حصے میں واقع امریکی جزائر بشمول گوام شدید ترین سمندری طوفان…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے قریب…