ترکی کے جنوب مشرقی صوبے شانلی عرفا کے علاقے سیورک میں واقع ایک ووکیشنل ہائی اسکول میں منگل کے روز فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک سابق طالب علم نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 16 افراد کو زخمی کر دیا۔ حملہ آور نے پولیس کے گھیرے میں آنے کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
صوبائی گورنر حسن سلداک کے مطابق اٹھارہ سالہ حملہ آور نے شاٹ گن کا استعمال کیا۔ زخمی ہونے والوں میں دس طلباء، چار اساتذہ، کینٹین کا ایک ملازم اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں صوبائی دارالحکومت کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ دیگر کا علاج سیورک میں جاری ہے۔
گورنر نے واقعے کو ایک الگ تھلگ واقعہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور اسکول کو محفوظ قرار دیے جانے کے باعث وہاں مستقل سیکیورٹی تعینات نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ سے قبل سوشل میڈیا پر اسکول پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ واقعے کے چشم دید گواہ طالب علم عمر فرقان سیار نے بتایا کہ حملہ آور نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی بغیر کچھ کہے فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد وہ جان بچانے کے لیے کھڑکی سے کود گئے۔
پولیس کی خصوصی ٹیموں نے اسکول کا محاصرہ کر لیا تھا، جس کے بعد حملہ آور نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ اسکول سے جاری ہونے والی ویڈیو فوٹیج میں طلباء کو خوف کے عالم میں عمارت سے باہر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ترکی میں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات انتہائی نایاب ہیں اور اس حملے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…