ہنگری کے نئے وزیراعظم کا روسی توانائی پر انحصار ختم کرنے کا اعلان، مشکل منتقلی کا خدشہ

ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں اتوار کے روز منعقدہ تاریخی انتخابات میں طویل عرصے سے اقتدار پر قابض وکٹر اوربان کو شکست دے کر پیٹر میگیار نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران پیٹر میگیار نے اپنے حریف کو کریملن کا کٹھ پتلی قرار دیا تھا اور ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہنگری کو روس کے زیر اثر حلقے سے باہر نکال لائیں گے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نئے وزیراعظم اپنے اس وعدے کو عملی جامہ پہنا سکیں گے۔

ہنگری کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے روسی توانائی کے سستے ذرائع پر انحصار کر رہی ہے جو ملکی معاشی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وکٹر اوربان نے اپنے سولہ سالہ دور حکومت میں ہنگری کو تیل، گیس اور جوہری توانائی کے لیے روس کا محتاج بنا دیا تھا۔ ملک کی خام تیل کی بڑی مقدار دروزبا پائپ لائن کے ذریعے آتی ہے جبکہ قدرتی گیس کا بیشتر حصہ روسی سرکاری کمپنی گیزپروم کے ساتھ معاہدوں کے تحت حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکس نیوکلیئر پاور پلانٹ میں بھی روسی کمپنی روساٹوم کا کلیدی کردار ہے۔

ماہرین کے مطابق ہنگری کے لیے روس پر انحصار کم کرنا تکنیکی لحاظ سے ممکن ہے تاہم اس عمل میں بھاری مالی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ کارنیگی رشیا یوریشیا سینٹر کے سینئر فیلو سرگئی واکولینکو کا کہنا ہے کہ ہنگری ایڈریا پائپ لائن کے ذریعے کروشیا سے تیل حاصل کر سکتا ہے اور یورپی توانائی گرڈ سے بھی گیس کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں، لیکن یہ متبادل ذرائع روسی رعایتی قیمتوں کے مقابلے میں کافی مہنگے ثابت ہوں گے۔

نئی حکومت میں متوقع وزیر خارجہ انیتا اوربان روسی توانائی پر انحصار میں کمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کر چکی ہیں۔ یورپی یونین نے 2027 تک روسی گیس کی درآمدات مکمل طور پر ختم کرنے کا عہد کر رکھا ہے، تاہم پیٹر میگیار نے انتخابی مہم کے دوران تسلیم کیا تھا کہ ہنگری کے لیے یہ ڈیڈ لائن غیر حقیقی ہے اور وہ اس ہدف کے حصول کے لیے 2035 کا وقت مقرر کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی پہلی پریس کانفرنس میں پیٹر میگیار نے زمینی حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیہ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، روس اور ہنگری کو یہیں رہنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت تیل اور گیس کی فراہمی کے لیے سب سے سستے اور محفوظ ذرائع تلاش کرے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پیٹر میگیار یورپی یونین کے ساتھ فنڈز کے حصول کے لیے سخت مذاکرات کریں گے تاکہ روسی توانائی سے چھٹکارا پانے کے معاشی بوجھ کو اٹھایا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہنگری کی نئی قیادت اصولوں اور معیشت کے اس ٹکراؤ میں کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago