تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان سے اظہارِ تشکر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز، ایران کے ساتھ معاہدے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان اور خطے کے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

واشنگٹن سے جاری ہونے والے بیانات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کو بہترین قرار دیتے ہوئے حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں اسلام آباد کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا بھی شکریہ ادا کیا اور خطے میں استحکام کے لیے ان ممالک کی کوششوں کو سراہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے دنیا کے لیے ایک شاندار دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کبھی بند نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے عالمی مفادات کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران، امریکہ کی مدد سے اس اہم آبی گزرگاہ سے سمندری بارودی سرنگیں ہٹا رہا ہے یا ہٹا چکا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ اب حل ہو چکا ہے اور اس کا تعلق لبنان سے نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ لبنان اور حزب اللہ سے متعلق صورتحال پر الگ سے کام جاری رکھے گا، جبکہ اسرائیل کو لبنان میں حملے کرنے سے روک دیا گیا ہے اور واشنگٹن نے ان کارروائیوں کو ممنوع قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کے آپریشنز کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جوہری مواد کو تلف کرے گا اور اس سمجھوتے کے بدلے کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس پیش رفت کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک وسیع تر مفاہمت کا حصہ قرار دیا۔

نیٹو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اتحاد نے انہیں مدد کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے نیٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم ماضی کے بحرانوں میں غیر مؤثر ثابت ہوئی ہے اور اب صرف تیل کی نقل و حمل کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے۔

ان اعلانات کے ساتھ ہی ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں بیک وقت کئی محاذوں پر سفارتی کوششیں جاری ہیں جن میں بحری سیکیورٹی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں استحکام شامل ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی صورت میں گزرتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کی جانب سے سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم بین الاقوامی مبصرین ان پیش رفتوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور متعلقہ حکومتوں یا عالمی اداروں کی جانب سے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

وزیراعظم شہباز شریف کی انطالیہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق

انٹالیا میں جاری ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب…

20 منٹس ago

امریکا ایران سے افزودہ یورینیم کی واپسی کا عمل بتدریج شروع کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں…

25 منٹس ago

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پنجاب کے کسان شدید مشکلات کا شکار

پنجاب کو پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے والا مرکز تسلیم کیا جاتا ہے جہاں…

30 منٹس ago

میکسیکو: ماحولیاتی کارکن قاتلانہ حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ، ویڈیو وائرل

میکسیکو میں ماحولیاتی کارکنوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اور سال 2025 کے…

1 گھنٹہ ago

لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا

ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی…

1 گھنٹہ ago

آبنائے ہرمز کھلنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا شکریہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز…

1 گھنٹہ ago