عالمی نظام خطرناک موڑ پر ہے، صدر اردوان کا سفارت کاری اور استحکام پر زور

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عالمی نظام ایک انتہائی سنگین اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت طاقت اور سمت کے گہرے بحران سے دوچار ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم عالمی ادارے بڑے بحرانوں کے سامنے غیر مؤثر اور لاتعلق ثابت ہوئے ہیں۔

صدر اردوان نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو محض ایک انسانی المیہ قرار دینے کے بجائے اسے عالمی نظام کے اخلاقی اور وجودی دیوالیہ پن کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے شام، غزہ، مغربی کنارے اور لبنان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی نظام انسانیت کے بنیادی امتحان میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کا حل تشدد میں نہیں بلکہ سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، مذاکرات کی جگہ ہتھیاروں کو نہیں لینے دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ جنگ بندی کے موجودہ موقع کو پائیدار امن کے قیام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کی جانب سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار رہنے پر زور دیا۔

آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت پر بات کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ خلیجی ممالک کی کھلے سمندروں تک رسائی محدود نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے عالمی قوانین کے تحت جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی نقل و حمل کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شام کے حوالے سے ترک صدر نے کہا کہ پڑوسی ملک میں استحکام اور معمول کے حالات کی بحالی خطے کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ روس اور یوکرین کے تنازع پر انہوں نے کہا کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو ترکیہ سربراہی اجلاس سمیت براہ راست مذاکرات کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

یورپی یونین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ترکیہ اپنی رکنیت کے ہدف پر قائم ہے تاہم یونین کو اپنے بانی وژن کی پاسداری کرنی چاہیے۔ بحیرہ ایجن اور مشرقی بحیرہ روم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس خطے کو استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنانا چاہتا ہے اور ان یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتا ہے جو انقرہ اور شمالی قبرص کی ترک جمہوریہ کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

صدر اردوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ اپنی خارجہ پالیسی میں امن اور تعاون کو ترجیح دیتا رہے گا اور انرجی و کنیکٹیویٹی کے شعبوں میں ڈیولپمنٹ روڈ پروجیکٹ جیسے اقدامات کے ذریعے ہمسایہ ممالک کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

3 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

3 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

3 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

3 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

3 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

3 ہفتے ago