امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں اور وہ افزودہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس عمل میں امریکی زمینی فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یورینیم کو کون منتقل کرے گا تو انہوں نے صرف یہ کہا کہ ہمارے لوگ یہ کام کریں گے۔ صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم ایرانیوں کے ساتھ مل کر یہ مواد حاصل کریں گے اور پھر اسے امریکہ منتقل کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب معاہدہ طے پا جائے گا تو لڑائی کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ یہ ایک خوشگوار پیش رفت ہے، بصورت دیگر ہمیں دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑتا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے حزب اللہ اور حماس جیسی پراکسی تنظیموں کی حمایت بند کرنے پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔ معاہدے کے اعلان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان اس ویک اینڈ پر ملاقات متوقع ہے، تاہم جب تک معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا، امریکہ ایران پر عائد پابندیاں برقرار رکھے گا۔
ایکسیس کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 20 ارب ڈالر جاری کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ جوہری مواد حاصل کیا جا سکے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس خبر کی سختی سے تردید کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بدلے میں ایک پیسہ بھی ادا نہیں کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر…
پوپ لیو چہار دہم نے کیمرون کے دورے کے دوران مصنوعی ذہانت کے تیزی سے…
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے تعریفی…
خلیجی ممالک اور اردن نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی…
پاکستان نے آئی ٹی ایف ایشیا انڈر 12 ٹیم چیمپئن شپ کے فائنل کے لیے…
واشنگٹن میں موجود باخبر ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی ساحلی پٹی پر امریکی…