اسلام آباد میں پیر کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود اتوار کو اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے کسی مفاہمت تک پہنچ سکیں۔
پاکستان نے گزشتہ ہفتے دونوں حریف ممالک کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی، تاہم وہ بات چیت کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستان کی اعلیٰ قیادت ایران کے حکام کے ساتھ ساتھ قطر اور ترکی جیسے علاقائی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مرکز ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سیکیورٹی کے وسیع تر خدشات ہوں گے۔ امریکہ ایران کی یورینیم افزودگی اور جوہری تنصیبات پر حدود کا خواہاں ہے، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ جوہری پروگرام اس کا خود مختار حق ہے اور وہ کسی معاہدے کے تحت صرف عارضی پابندیوں پر غور کر سکتا ہے۔
یہ تازہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کی مدت اگلے ہفتے کے اوائل میں ختم ہو رہی ہے۔
واشنگٹن اور تہران میں سے کسی نے بھی اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ مذاکرات ویک اینڈ پر ہو سکتے ہیں اور انہوں نے تفصیلات بتائے بغیر بات چیت میں پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے صدارتی پرواز کے دوران صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ پیر کی صبح اوول آفس سے خطاب کریں گے، جس میں ان سے پیش رفت کے حوالے سے مزید تبصرے کی توقع ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی مخصوص تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…