بیجنگ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کا مرکزی حصہ 2026 کی دوسری ششماہی میں مکمل کر لیا جائے گا۔ سرکاری میڈیا بیجنگ ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ سیٹلائٹ بنانے والی کمپنیوں اور آپریٹرز کے لیے ایک اہم مرکز ثابت ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دور میں خلائی مشنز میں تجارتی لانچز کا تناسب 60 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے جس کی وجہ سے کئی نجی کمپنیاں سٹاک مارکیٹ میں شمولیت کے لیے کوشاں ہیں۔
فیوچر ایرواسپیس کے سٹریٹجک ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ گاؤ یی بن کا کہنا ہے کہ لانچ کی منظوریوں میں تیزی، مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری اور صنعتی فنڈز کی مسلسل فراہمی کے باعث چین کی کھربوں یوآن کی تجارتی خلائی مارکیٹ اب معیاری اور وسیع پیمانے پر ترقی کی جانب گامزن ہے۔
گاؤ یی بن نے مزید کہا کہ لو ارتھ آربٹ کنسٹیلیشن نیٹ ورکنگ، سیٹلائٹ انٹرنیٹ، خلائی کمپیوٹنگ پاور اور 6 جی ایئر اسپیس انٹیگریشن جیسے منصوبوں پر تیز رفتار عمل درآمد اس بات کی دلیل ہے کہ 2026 میں اس شعبے میں پائیدار نمو متوقع ہے۔
بیجنگ سیٹلائٹ ٹاؤن کا مقصد ایرواسپیس انڈسٹری کو فروغ دینا ہے تاکہ ایک ایسا صنعتی کلسٹر تشکیل دیا جا سکے جہاں ہنر مند افراد، سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی بلا تعطل ترسیل ممکن ہو سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے…
وزیراعظم شہباز شریف تین ملکی دورے مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔…
ایران اور خطے کے درمیان جاری کشیدگی اگرچہ جنوبی ایشیا سے بظاہر دور دکھائی دیتی…
ترکی اور ایران کے درمیان قدرتی گیس کی درآمد کا طویل المدتی معاہدہ آئندہ چند…
نیوزی لینڈ نے چین کی جانب سے اپنے فوجی پیٹرول طیارے کی پرواز پر اٹھائے…
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت لاہور میں صحت کے شعبے میں جاری…