ایران اور خطے کے درمیان جاری کشیدگی اگرچہ جنوبی ایشیا سے بظاہر دور دکھائی دیتی ہے تاہم اس کے اثرات پاکستان اور بھارت کی معیشتوں پر گہرے نقوش چھوڑ رہے ہیں۔ دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک توانائی، تجارت اور تارکین وطن کے ذریعے خلیجی خطے سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث جنگ کے اثرات ان کی معاشی بنیادوں کو ہلا رہے ہیں۔
توانائی کا بحران اس صورتحال کا مرکزی نقطہ ہے۔ بھارت دنیا میں تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور اس کا دارومدار خلیجی تیل پر ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ بھارتی معیشت کے لیے شدید جھٹکوں کا باعث بنتی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جس سے مہنگائی اور سرکاری خزانے پر بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کے لیے صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ محدود زرمبادلہ کے ذخائر اور درآمدی ایندھن پر شدید انحصار کے باعث پاکستان قیمتوں میں اضافے سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کو ہنگامی اقدامات کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے جن میں سخت مالیاتی کنٹرول اور سپلائی لائنز کو محفوظ بنانا شامل ہے۔
عام شہری اس جنگ کے معاشی اثرات کو مہنگائی کی صورت میں محسوس کر رہے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے خوراک اور بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس سے نچلے اور درمیانے طبقے کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ خلیج میں عدم استحکام کی صورت میں تارکین وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے سیاسی ردعمل میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا فعال کردار ادا کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکے۔ دوسری جانب بھارت نے محتاط راستہ اختیار کرتے ہوئے مغربی اتحادیوں، خلیجی ریاستوں اور ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کی یہ محتاط پالیسی خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کر سکتی ہے۔
جنگ کے تزویراتی اثرات سمندری سیکیورٹی اور تجارتی راستوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اس صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ جیسے جیسے تنازع طول پکڑ رہا ہے، اس کے معاشی اور سفارتی اثرات آنے والے مہینوں اور برسوں تک خطے کی حرکیات کو تبدیل کرتے رہیں گے۔
تہران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکی…
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ہفتے کے روز ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے…
وزیراعظم شہباز شریف تین ملکی دورے مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔…
بیجنگ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کا مرکزی حصہ 2026 کی دوسری ششماہی میں مکمل کر لیا…
ترکی اور ایران کے درمیان قدرتی گیس کی درآمد کا طویل المدتی معاہدہ آئندہ چند…