اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شب شام کے صوبے قنیطرہ میں ایک نئی پیش قدمی کی ہے۔ شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق اسرائیلی دستے ان پہلے سے تیار شدہ ڈھانچوں میں تعینات ہو گئے ہیں جنہیں ایک روز قبل علاقے میں لایا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز کے دو ٹینک اور دو فوجی گاڑیاں جنوبی قنیطرہ میں واقع مشرقی تل الاحمر کی پہاڑی پر پہنچیں۔ گزشتہ جمعہ کے روز اسرائیلی فوج ایک بلڈوزر اور کئی پہلے سے تیار شدہ کمرے اس مقام پر منتقل کر چکی تھی تاہم اس اقدام کی تاحال کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شامی صدر احمد الشرع نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شام خطے میں استحکام کے لیے ایک سیکیورٹی معاہدہ چاہتا ہے اور مذاکرات تاحال جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی فوج کی شامی علاقے میں موجودگی پر اصرار کے باعث بات چیت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے 1974 کے انخلا کے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے سرحدی بفر زون پر قبضہ کرنے کی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔
نئی شامی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کسی جارحانہ بیان کے باوجود اسرائیلی فوج مسلسل فضائی حملے کر رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں اب تک متعدد شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ فوجی تنصیبات، آلات اور اسلحہ کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…