تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاہم کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں قالیباف، جو مذاکراتی ٹیم کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، نے خبردار کیا کہ خطے میں صورتحال کسی بھی لمحے بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں پر ہرگز بھروسہ نہیں کرتا اور اسے کسی بھی وقت شدت اختیار کرنے والی کشیدگی کا ادراک ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ تہران سفارتی رابطوں کو اہمیت دیتا ہے لیکن قومی سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور دفاعی تیاری دونوں ہی ناگزیر ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات اور تیاری کی متوازی حکمت عملی دراصل تہران کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ سفارتی دروازے کھلے رکھنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…