ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو، ٹرمپ اور پیوٹن کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل، روس اور امریکہ عالمی انسانی حقوق کی پامالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تنظیم نے ان ممالک کی قیادت کو حریص شکاری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکمران سیاسی اور معاشی غلبے کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

لندن میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالمارڈ نے کہا کہ ایک ایسا عالمی ماحول طویل عرصے سے تیار کیا جا رہا ہے جس میں وحشیانہ پن پروان چڑھ سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ سن 2025 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام سے ایک نمایاں یو ٹرن لیا گیا ہے۔

کالمارڈ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی پالیسیوں نے عالمی معاملات پر ڈرامائی اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان رہنماؤں کا طرز عمل دیگر ریاستوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جس سے بین الاقوامی صورتحال مزید جارحانہ اور غیر مستحکم ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سی حکومتیں ان شکاری عناصر کا مقابلہ کرنے کے بجائے انہیں خوش کرنے کی پالیسی اپنا رہی ہیں۔ تاہم، ایمنسٹی نے اسپین کی تعریف کی ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے معاملے پر دوہرے معیار سے بالاتر ہو کر موقف اختیار کر رہا ہے۔

چار سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں افغانستان سے لے کر زمبابوے تک دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آمریت پسندانہ رویوں میں شدت آئی ہے اور بین الاقوامی قانونی ضابطوں کو بڑے پیمانے پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جاری تنازعات میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 72 ہزار 500 سے زائد، لبنان میں تقریباً 2 ہزار 400، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں 3 ہزار اور یوکرین میں روس کے چار سالہ حملے کے دوران 15 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندیوں اور نیپال میں دلت خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ میں فلسطین کے حق میں سرگرمیوں پر پابندی اور فلسطین ایکشن کے خلاف قانونی کارروائیوں کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مایوس کن صورتحال کے باوجود رپورٹ میں مزاحمت اور احتساب کی کچھ مثبت علامات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان میں جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ، آئی سی سی کی جانب سے طالبان رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری کا اجرا، اور فلپائن کے سابق صدر روڈریگو ڈوٹیرتے کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات شامل ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago