بحیرہ بالٹک پر روسی طیاروں کی پرواز، نیٹو کے لڑاکا طیارے فضا میں بلند

نیٹو نے پیر کے روز بحیرہ بالٹک کے اوپر پرواز کرنے والے روسی اسٹریٹجک بمبار طیاروں اور جنگی طیاروں کو روکنے کے لیے اپنے لڑاکا طیارے فضا میں بلند کیے۔ یہ کارروائی اتحاد کے مشرقی حصے میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے ہٹ کر ایک اہم پیش رفت ہے۔

فرانسیسی فضائیہ کے رافیل طیارے لتھوانیا کے ایئر بیس سے روانہ کیے گئے، جہاں یہ نیٹو کی فضائی نگرانی کے مشن کے تحت تعینات ہیں۔ ان طیاروں کے ساتھ سویڈن، فن لینڈ، پولینڈ، ڈنمارک اور رومانیہ کے جنگی طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ فرانسیسی حکام کے مطابق، روسی مشن میں دو سپر سونک ٹی یو-22 ایم 3 بمبار اور تقریباً 10 ایس یو-30 اور ایس یو-35 جنگی طیارے شامل تھے جنہوں نے بمبار طیاروں کی حفاظت کے فرائض سرانجام دیے۔

روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کی معمول کی پرواز تھی جو بحیرہ بالٹک کے غیر جانبدار پانیوں کے اوپر کی گئی۔ وزارت کے مطابق یہ پرواز چار گھنٹے سے زائد جاری رہی اور اس دوران روسی طیارے بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کر رہے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پرواز کے بعض حصوں میں غیر ملکی طیاروں نے روسی طیاروں کا ساتھ دیا۔

نیٹو کی جانب سے معمول کے مطابق ان روسی طیاروں کو روکنے کے لیے کارروائی کی گئی جو اتحاد کی فضائی حدود کے قریب پہنچتے ہیں۔ نیٹو کا موقف ہے کہ روسی طیارے اکثر ٹرانسپونڈر بند رکھتے ہیں اور فضائی ٹریفک کنٹرولرز سے رابطہ نہیں کرتے، جس کی وجہ سے نیٹو کو شناخت کے لیے اپنے طیارے فضا میں بھیجنا پڑتے ہیں۔

لتھوانیا کے ایئربیس شاولئی سے تعلق رکھنے والے فرانسیسی پائلٹس اور نیویگیٹرز کو الرٹ ملتے ہی چند منٹوں کے اندر کارروائی کے لیے تیار دیکھا گیا۔ یہ ٹیمیں چار ماہ کی تعیناتی پر وہاں موجود ہیں۔ نیٹو 2004 سے بالٹک ممالک کی فضائی حدود کی نگرانی کر رہا ہے اور یوکرین میں جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی سالانہ تقریباً 300 بار روسی طیاروں کو روکا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بحیرہ بالٹک میں روسی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں زیر آب کیبلز کی مبینہ تخریب کاری کے واقعات بھی شامل ہیں۔ لتھوانیا کی وزارت دفاع کے مطابق 13 سے 19 اپریل کے درمیان چار بار نیٹو کے طیارے روسی طیاروں کو روکنے کے لیے فضا میں بلند ہوئے جنہوں نے پرواز کے قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔ اپریل 2025 میں بھی سویڈن اور برطانیہ نے اپنے طیارے روسی جاسوسی طیاروں کو روکنے کے لیے روانہ کیے تھے۔

ماضی میں بھی بحیرہ بالٹک کے اوپر امریکی اور روسی طیاروں کے درمیان قریبی فاصلے پر آمنا سامنا ہوا ہے، جن میں 2017 اور 2018 کے واقعات شامل ہیں جب روسی اور امریکی طیارے ایک دوسرے کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ٹرمپ کی برطانوی وزیراعظم کی حمایت، پیٹر مینڈلسن تنازع سے نکلنے کی پیشگوئی

لندن میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر ایک بار پھر شدید سیاسی بحران کی زد میں…

8 منٹس ago

اسلام آباد: 22 اپریل کو ریڈ زون میں وفاقی دفاتر سے ورک فرام ہوم کا حکم

کابینہ ڈویژن نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع تمام وفاقی دفاتر کے لیے…

14 منٹس ago

آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور معطل، 24 گھنٹوں میں صرف 3 جہاز گزر سکے

آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کا عمل تقریباً معطل ہو کر رہ گیا ہے اور…

20 منٹس ago

ایران جنگ: برطانیہ کا فوسل فیول کے بجائے نیٹ زیرو اہداف پر کاربند رہنے کا اعلان

برطانیہ نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کے…

56 منٹس ago

غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی حملے، 11 فلسطینی شہید

غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے…

1 گھنٹہ ago

اسلام آباد میں پاک ایران مذاکرات: جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب، تہران کے جواب کا انتظار

اسلام آباد میں متوقع ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری…

1 گھنٹہ ago