ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹبالر ڈیاگو میراڈونا کی بیٹی گیانینا میراڈونا نے اپنے والد کی موت کے مقدمے میں عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے طبی ٹیم پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میراڈونا کی وفات سے قبل ان کے ڈاکٹروں نے خاندان کو مکمل طور پر گمراہ کیا اور صورتحال کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔
بیونس آئرس کے مضافاتی علاقے سان اسیدرو میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران گیانینا نے کہا کہ طبی ماہرین نے انہیں اور ان کے بہن بھائیوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ ان کے والد ٹائیگرے میں واقع کرائے کے گھر میں بحفاظت صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ گیانینا کے مطابق ڈاکٹروں نے اس گھر کو طبی سہولیات سے آراستہ قرار دے کر ایک سنجیدہ اور محفوظ آپشن کے طور پر پیش کیا تھا۔
عدالت میں نیورو سرجن لیوپولڈو لوکے، ماہر نفسیات آگسٹینا کوساچوو اور نرس کارلوس ڈیاز کا نام لیتے ہوئے گیانینا نے کہا کہ انہوں نے ان تینوں افراد پر بھروسہ کیا لیکن انہوں نے خاندان کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان لوگوں کی غفلت نے میرے بیٹے کو اس کے نانا کے پیار سے محروم کر دیا ہے۔
میراڈونا کی طبی ٹیم کے سات ارکان کو اس مقدمے میں غفلت برتنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ استغاثہ کا موقف ہے کہ ملزمان جانتے تھے کہ گھر پر علاج کا فیصلہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اس کے باوجود انہوں نے یہی راستہ اختیار کیا۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ملزمان کو آٹھ سے پچیس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب دفاعی وکلاء کا استدلال ہے کہ ڈیاگو میراڈونا کی موت قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوئی، کیونکہ وہ طویل عرصے سے کوکین اور شراب کی لت میں مبتلا تھے۔ سن 1986 کے ورلڈ کپ کے ہیرو کا انتقال دماغی سرجری کے دو ہفتے بعد دل کا دورہ پڑنے اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے کے باعث ہوا تھا۔
اس سے قبل اس کیس کی سماعت گزشتہ برس اس وقت منسوخ کر دی گئی تھی جب یہ انکشاف ہوا کہ مقدمے کی سماعت کرنے والے ایک جج نے اس کیس پر بننے والی ایک دستاویزی فلم میں خفیہ طور پر حصہ لیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن مذاکرات کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال…
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کی رجسٹریشن کے لیے…
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں…
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے منگل کے روز تصدیق کی…
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اپنے نچلے ترین سطح پر برقرار ہے۔ رائٹرز اور…