واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات تہران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔
نئی پابندیوں کا ہدف 14 افراد اور کمپنیاں ہیں جو ایران کو ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کر رہی تھیں۔ ان اہداف میں طیارے بھی شامل ہیں اور ان کا تعلق ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فریقین ایران کے لیے ہتھیاروں یا ان کے پرزہ جات کی خریداری اور نقل و حمل میں ملوث تھے۔
یہ نئی پابندیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے آغاز پر تعطل برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے مابین یہ کشمکش اس معاہدے کے حوالے سے ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…