واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات تہران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔
نئی پابندیوں کا ہدف 14 افراد اور کمپنیاں ہیں جو ایران کو ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کر رہی تھیں۔ ان اہداف میں طیارے بھی شامل ہیں اور ان کا تعلق ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فریقین ایران کے لیے ہتھیاروں یا ان کے پرزہ جات کی خریداری اور نقل و حمل میں ملوث تھے۔
یہ نئی پابندیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے آغاز پر تعطل برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے مابین یہ کشمکش اس معاہدے کے حوالے سے ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
یوکرین نے ترکی سے درخواست کی ہے کہ وہ صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی صدر…
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا…
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج پشاور کرکٹ اسٹیڈیم میں طلب کر لیا گیا ہے،…
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال مکمل…
تھائی لینڈ نے میانمار کے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان میں دوبارہ شمولیت…
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کو ایک سال…