اسپین میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی قانونی حیثیت کے حصول کیلئے رجسٹریشن کا آغاز، سیاسی مخالفت میں شدت

ہسپانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ایک نیا عام معافی کا پروگرام شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت پانچ لاکھ سے زائد افراد کو ملک میں قیام اور کام کرنے کی اجازت ملنے کی توقع ہے۔ اس اقدام کا آغاز رواں ہفتے ہوا ہے جس کے لیے رجسٹریشن پوائنٹس پر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔

نئے پروگرام کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو ایک سالہ قابل تجدید رہائشی اجازت نامہ فراہم کیا جائے گا۔ اس سہولت کے حصول کے لیے درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم از کم پانچ ماہ سے ہسپانیہ میں مقیم ہیں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ درخواستیں جمع کرانے کا عمل پیر سے شروع ہو چکا ہے جو جون کے آخر تک جاری رہے گا۔

حکومت کا تخمینہ ہے کہ اس پالیسی سے پانچ لاکھ افراد مستفید ہوں گے تاہم دیگر اداروں کے اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں۔ ہسپانوی تھنک ٹینک فونکاس کے مطابق ملک میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کی تعداد آٹھ لاکھ چالیس ہزار ہو سکتی ہے جبکہ نیشنل سینٹر فار امیگریشن اینڈ بارڈرز کے مطابق یہ تعداد سات لاکھ پچاس ہزار سے دس لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس پالیسی کو اخلاقی اور معاشی ضرورت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے غیر قانونی تارکین وطن پہلے ہی ہسپانوی معیشت کا حصہ ہیں اور کلیدی شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس معافی سے نہ صرف ان مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ ملک کی بوڑھی ہوتی ہوئی آبادی اور معیشت کو سہارا ملے گا۔

اس پالیسی کو ہسپانیہ کے سیاسی حلقوں میں شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے شاہی فرمان کے ذریعے یہ فیصلہ کیا ہے جو جمہوری عمل کے منافی ہے۔ کنزرویٹو پیپلز پارٹی کی رہنما کایتانا الواریز ڈی ٹولیڈو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدام غیر قانونی تارکین وطن کو اپنی جانب راغب کرنے کا سبب بنے گا اور انسانی سمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کو فائدہ پہنچائے گا۔

ہسپانوی اپوزیشن نے اس پالیسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے اور دائیں بازو کی جماعت ووکس نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں شاہی فرمان کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ہسپانیہ 1986 سے 2005 کے درمیان چھ مرتبہ اس طرح کے پروگرام لاگو کر چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت درخواستوں کے بھاری بوجھ اور سیاسی دباؤ کے درمیان اس پروگرام کو کس حد تک کامیابی سے چلانے میں کامیاب ہوتی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

عثمان خان کی ریکارڈ ساز سنچری، حیدرآباد کنگز مین کی سنسنی خیز فتح

عثمان خان نے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے گیارہویں ایڈیشن میں شاندار کارکردگی…

10 منٹس ago

اسلام آباد: 23 اپریل کو ریڈ زون میں وفاقی دفاتر بند، ملازمین کو ورک فرام ہوم کی ہدایت

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع تمام سرکاری دفاتر میں 23 اپریل…

59 منٹس ago

ایران پر امریکی ناکہ بندی: غیر واضح مقاصد اور پیچیدہ صورتحال

امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے تک اس کے بحری جہازوں کے راستے…

1 گھنٹہ ago

پولیو کیسز میں نمایاں کمی، وزیراعظم کا ملک سے مرض کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے…

1 گھنٹہ ago

ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی دے دی

ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک اور شخص کو سزائے موت…

2 گھنٹے ago

ایران کا قیادت میں اختلافات کی خبروں کی تردید، ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اشارہ

تہران نے ملکی قیادت کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی خبروں کو مسترد…

2 گھنٹے ago