ایران پر امریکی ناکہ بندی: غیر واضح مقاصد اور پیچیدہ صورتحال

امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے تک اس کے بحری جہازوں کے راستے روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں اور جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار اس ناکہ بندی کی کامیابی پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔ مبہم مقاصد اور جہازوں کی خفیہ سرگرمیوں کے باعث امریکی آپریشن کی افادیت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کی تجزیہ کار برِجٹ ڈیاکن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے متضاد معلومات اور ڈیٹا کے اجرا میں تاخیر کے باعث ناکہ بندی کے دائرہ کار اور پیرامیٹرز پر کافی الجھن پائی جاتی ہے۔

اس بحری تعطل کا پس منظر یہ ہے کہ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں جنگ بندی کے دوران امن مذاکرات کی ناکامی پر تیرہ اپریل کو امریکی افواج نے جوابی ناکہ بندی شروع کی۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین کے مطابق اس ناکہ بندی کا اطلاق خلیج عمان کے دہانے پر کیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ پابندی ایران آنے اور جانے والے تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہوگی۔ بعد ازاں امریکی بحریہ نے اعلان کیا کہ وہ مقام سے قطع نظر تیل، اسلحہ اور جوہری مواد لے جانے والے مشکوک جہازوں کو بھی روکے گی۔

ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کو بتایا کہ اب کامیابی کا معیار یہ نہیں ہے کہ کتنے جہازوں نے ناکہ بندی توڑی، بلکہ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ایران کی تجارت کو کتنا نقصان پہنچا۔ تاہم سیٹلائٹ تصاویر اور ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجنوں ایسے جہاز ناکہ بندی کی لکیر پار کر چکے ہیں جو پابندیوں کی زد میں ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سترہ اپریل تک یہ دعویٰ کرتی رہی کہ کوئی بھی جہاز ناکہ بندی سے بچ کر نہیں نکلا، لیکن اٹھارہ اپریل کے بعد سے اعداد و شمار میں صرف ان اٹھائیس جہازوں کی تعداد بتائی جا رہی ہے جنہیں واپس موڑا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے شکار جہاز اپنی منزل عراق یا دیگر غیر ایرانی مقامات ظاہر کر کے ناکہ بندی کو چکمہ دے رہے ہیں۔ خلیج میں داخل ہونے کے بعد جہاز اپنے ٹرانسپونڈرز بند کر کے یا غلط لوکیشن دکھا کر ایرانی تیل کی منتقلی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی چھوٹ کے ضوابط بھی واضح نہیں ہیں، جس کی وجہ سے خوراک لے جانے والے کم از کم دو جہاز بلا روک ٹوک ایرانی بندرگاہوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago