ہنگری کا ویٹو ختم، یوکرین کے لیے 106 ارب ڈالر کے یورپی یونین قرض کی راہ ہموار

یورپی یونین نے ہنگری کی جانب سے طویل عرصے سے عائد ویٹو ختم کیے جانے کے بعد یوکرین کے لیے ایک سو چھ ارب ڈالر کے قرض کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ اس فنڈز کا بڑا حصہ یوکرین کے دفاعی شعبے پر خرچ کیا جائے گا، جسے کیف کے حکام یورپ کی طویل مدتی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

یہ پیشرفت ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی رواں ماہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے یورپی یونین اور یوکرین کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس سے قبل دسمبر میں پیش کردہ یہ قرضہ ہنگری اور یوکرین کے درمیان ڈروزبا پائپ لائن کے تنازع کی وجہ سے تعطل کا شکار تھا۔ وکٹر اوربان نے فروری میں اس وقت فنڈز پر ویٹو کر دیا تھا جب انہوں نے یوکرین پر روس سے ہنگری اور سلوواکیا جانے والی تیل کی سپلائی بند کرنے کا الزام لگایا تھا۔

تاہم بارہ اپریل کو ہنگری کے پارلیمانی انتخابات میں وکٹر اوربان کو سینٹر رائٹ امیدوار پیٹر میگیار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق ڈروزبا پائپ لائن کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے اور ہنگری و سلوواکیا کے لیے روسی تیل کی ترسیل بحال ہو چکی ہے۔

بدھ کے روز یورپی یونین کے سفیروں کی جانب سے ابتدائی منظوری کے بعد اب اس قرضے کی حتمی توثیقی عمل باقی ہے، تاہم ہنگری کی جانب سے رکاوٹیں ہٹ جانے کے بعد کسی بڑی مشکل کا امکان نہیں ہے۔ یوکرین کی وزارت برائے اسٹریٹجک انڈسٹریز کے مشیر یوری ساک نے بتایا کہ فنڈز کا دو تہائی حصہ دفاعی صنعت پر خرچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی دفاعی صنعت پچاس ارب ڈالر کے ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن حکومت فی الحال صرف پندرہ ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے کی استطاعت رکھتی ہے۔

یوکرینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیورہی تیخی نے کہا کہ فنڈز کی عدم دستیابی نے دفاعی منصوبوں کو نقصان پہنچایا تھا، لہذا اس پیش رفت سے کیف میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ یوکرینی حکام کا ماننا ہے کہ یہ رقم محض یوکرین نہیں بلکہ پورے یورپ کے دفاع کے لیے ہے تاکہ روسی خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

نئی ہنگری حکومت کے حوالے سے یوکرین محتاط مگر پرامید ہے۔ یوری ساک نے کہا کہ پیٹر میگیار کا رویہ وکٹر اوربان کی طرح تخریبی نہیں ہوگا۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی کیف میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہنگری کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی ضروری ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago