ایران جنگ کے باعث یورپ میں شمسی توانائی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ

یورپ میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گھریلو صارفین تاریخ کے بدترین عالمی توانائی بحران کے باعث بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچنے کے لیے سولر ٹیکنالوجی کا رخ کر رہے ہیں۔

اس تنازع کے نتیجے میں تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں شدید تیزی آئی ہے، جس نے عام شہریوں اور کاروباری اداروں کو یکساں متاثر کیا ہے۔ اب یورپی ممالک توانائی کی غیر مستحکم منڈیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں تیزی لا رہے ہیں۔

جرمنی، برطانیہ اور نیدرلینڈز میں توانائی کے آلات کے تھوک فروشوں اور قابل تجدید توانائی کی کمپنیوں کے مطابق، فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بعض اداروں کے لیے سولر سسٹمز کی طلب میں دوگنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی یورپ کی کل بجلی کی پیداواری صلاحیت کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے، تاہم گزشتہ برس اس کی تنصیبات کی رفتار میں ایک دہائی میں پہلی بار کمی دیکھی گئی تھی۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کو درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

جرمن سولر کمپنی سولر ہینڈل 24 کے شریک بانی جانک نولڈن کا کہنا ہے کہ جنگ نے توانائی کے انحصار کے اس مسئلے کو بے نقاب کر دیا ہے جو پہلے سے موجود تھا۔ انہوں نے یورپی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک جال میں پھنستی چلی گئیں۔

سولر ہینڈل 24 کی خالص فروخت مارچ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا بڑھ کر 70 ملین یورو تک پہنچ گئی، جبکہ اس ماہ یہ ہندسہ 60 ملین یورو تک جانے کی توقع ہے۔ کمپنی طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنی افرادی قوت میں بھی 85 افراد کا اضافہ کر رہی ہے۔

ادھر جرمنی کی کمپنی اینپال کے چیف ایگزیکٹو ماریو کوہلے کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ یورپی لچک اور خود انحصاری کا ہے۔ جس طرح یورپ کو اپنا دفاع کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح اسے اپنی توانائی خود پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اب صارفین سولر پینلز کے ساتھ بیٹریز اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ باکسز بھی نصب کروا رہے ہیں تاکہ اضافی بجلی کو محفوظ کیا جا سکے۔ اس رجحان کے باعث توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجی کی طلب میں بھی 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یورپ کے سب سے بڑے انرجی نیٹ ورک آپریٹر ای ڈاٹ او این کے فلپ تھون کے مطابق، صارفین کی جانب سے سولر سسٹمز کے لیے درخواستیں سال بہ سال تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں۔

برطانیہ کی او وی او انرجی کے ایڈ جینورن کا کہنا ہے کہ طلب میں یہ اضافہ ایک ساختی تبدیلی ہے جسے موجودہ جغرافیائی سیاسی واقعات نے تیز کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اپریل میں کمپنی کی فروخت گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ رہی۔

اگرچہ چین کے پاس عالمی طلب سے دوگنا سولر پینل بنانے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ توانائی کے بحرانوں نے قابل تجدید توانائی کے شعبے کی اہمیت کو عالمی سطح پر مسلمہ طور پر ثابت کر دیا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago