امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کانگریس کے ارکان کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی تنازع کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔ حکام کے مطابق اس عمل میں شدید تکنیکی اور آپریشنل مشکلات درپیش ہوں گی۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے حکام نے ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ سمندری حدود میں بچھائی جانے والی بارودی سرنگوں کو ہٹانا ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہوگا۔
پینٹاگون حکام نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی آپریشن کی ضرورت پڑی تو صرف بارودی سرنگوں کی صفائی میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ حکام نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کو بحال کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن ناگزیر ہوگا تاہم فعال جنگ کے دوران ایسی کارروائیاں انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
امریکی دفاعی حکام کا ماننا ہے کہ بارودی سرنگیں ہٹانے کے مشن کی کامیابی کے لیے جنگ بندی کا ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لڑائی کے دوران ان سرنگوں کو ہٹانے کی صلاحیت انتہائی محدود رہے گی۔ اگرچہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے عزم پر قائم ہے لیکن حکام نے تسلیم کیا کہ آپریشنل رکاوٹوں کے باعث معمول کی جہاز رانی کی فوری بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اور دور رس منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی کی حفاظت…
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور افراطِ زر کے خدشات کے…
قومی ہاکی ٹیم کے چیف سلیکٹر سمیع اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی…
پنجاب حکومت نے ڈومیسائل کے اجراء کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا…
خیرپور کے نواحی علاقے سعید لاکو گاؤں میں پولیس کے ڈرون آپریشن کے دوران دو…
حکومت سندھ نے صوبے بھر میں روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر چلنے والی…