آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد دنیا کی اہم ترین گزرگاہ ‘آبنائے ملاکا’ پر عالمی توجہ

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایشیائی پالیسی سازوں کی جانب سے دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستے آبنائے ملاکا کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نو سو کلومیٹر طویل یہ آبنائے انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان واقع ہے اور مشرقی ایشیا کو مشرق وسطیٰ اور یورپ سے ملانے والا مختصر ترین سمندری راستہ ہے۔

سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق عالمی سمندری تجارت کا بائیس فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے جس میں چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے درکار تیل اور گیس کی ترسیل بھی شامل ہے۔ امریکی توانائی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق آبنائے ملاکا دنیا کا سب سے بڑا آئل ٹرانزٹ پوائنٹ ہے جو اس معاملے میں آبنائے ہرمز سے بھی آگے ہے۔

سال دو ہزار پچیس کی پہلی ششماہی کے دوران اس راستے سے یومیہ دو کروڑ بتیس لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی جو کہ عالمی سمندری تیل کی کل ترسیل کا انتیس فیصد ہے۔ اسی عرصے میں یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو تک پہنچ گئی جو دو ہزار چوبیس میں چورانوے ہزار تین سو تھی۔ اگرچہ بعض بڑے بحری جہاز گہرائی کے مسائل کے باعث انڈونیشیا کے جنوبی راستے کا انتخاب کرتے ہیں، تاہم یہ متبادل راستہ سفر کو طویل اور مہنگا بنا دیتا ہے۔

آبنائے ملاکا کا تنگ ترین مقام سنگاپور آبنائے کا فلپس چینل ہے جو صرف ایک اعشاریہ سات میل چوڑا ہے، جس کے باعث یہاں حادثات اور تیل کے اخراج کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ خطہ برسوں سے بحری قزاقی کا گڑھ رہا ہے، تاہم ری کیپ انفارمیشن شیئرنگ سینٹر کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ان واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین کی سمندری راستے سے آنے والی پچھتر فیصد خام تیل کی درآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔

خطے میں کشیدگی کے تناظر میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اگر جنوبی بحیرہ چین یا آبنائے تائیوان میں تنازع پیدا ہوا تو عالمی تجارت کے مزید اکیس فیصد حصے پر اثر پڑے گا۔ ملائیشیا کے حکام نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ یہ علاقہ غیر قانونی طور پر جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

حکومتی سطح پر ردعمل دیتے ہوئے انڈونیشیا کے وزیر خزانہ پربایا یودھی سدیوا نے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر محصول عائد کرنے کا ذکر کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس کی تردید کر دی گئی۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشنن نے واضح کیا ہے کہ ساحلی ممالک آبنائے کو کھلا رکھنے کے پابند ہیں اور کسی بھی قسم کا محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکہ اور چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جہاز رانی کا حق ہر ایک کے لیے محفوظ ہے۔ ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن کا کہنا ہے کہ اس آبنائے کے بارے میں کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ ممکن نہیں اور تمام متعلقہ ممالک مشترکہ گشت کے ذریعے اس راستے کو ہر صورت کھلا رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ایکواڈور: بدنام زمانہ منشیات گروہ کے اہم کمانڈر کی امریکہ حوالگی کی منظوری

ایکواڈور کی اعلیٰ ترین عدالت نے بدھ کے روز لاس چونیئرس گینگ کے ایک اعلیٰ…

31 منٹس ago

پاکستانی نژاد بانی کی اے آئی اسٹارٹ اپ ‘کرسر’ کو اسپیس ایکس کی جانب سے 60 ارب ڈالر کی پیشکش

اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ تیار کرنے والے اسٹارٹ اپ کرسر کے…

38 منٹس ago

انٹر میلان کے پاس سیری اے ٹائٹل جیتنے کا سنہری موقع

انٹر میلان کے پاس اتوار کے روز سیری اے ٹائٹل اپنے نام کرنے کا پہلا…

44 منٹس ago

پرنس ہیری کا یوکرین کا غیر متوقع دورہ، روس پر جنگی جرائم کا الزام

برطانوی شاہ چارلس کے چھوٹے صاحبزادے شہزادہ ہیری نے یوکرین کا غیر اعلانیہ دورہ کیا…

1 گھنٹہ ago

برطانیہ: 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے تمباکو نوشی پر تاحیات پابندی کا بل منظور

برطانیہ میں تمباکو نوشی کے انسداد کے لیے ایک تاریخی قانون سازی مکمل کر لی…

1 گھنٹہ ago

حیدرآباد: شادی کی تقریب میں کرنٹ لگنے سے تین بچے جاں بحق

حیدرآباد کے علاقے پھلیلی میں شادی کی تقریب کے دوران پیش آنے والے المناک حادثے…

2 گھنٹے ago