ناروے کی حکومت نے 16 برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کرے گی جس کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ سوشل میڈیا صارفین کی عمر کی تصدیق کو یقینی بنائیں۔
ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر سٹور کا اس اقدام کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ قانون سازی اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ بچوں کو ان کا بچپن واپس مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچے اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں کو حقیقی معنوں میں انجوائے کر سکیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ کھیل کود، دوستی اور روزمرہ کی زندگی کو الگورتھمز اور اسکرینوں کے قبضے میں نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کی ڈیجیٹل زندگیوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔
ناروے کی اقلیتی لیبر حکومت کے مطابق اس مجوزہ بل کو 2026 کے اختتام تک پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
امریکی محکمہ انصاف نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی…
بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے دورہ جرمنی کے دوران پیش آنے والا…
قومی سلامتی کمیٹی نے پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سخت اور…
جنوبی کوریا کے استغاثہ نے جمعہ کے روز سابق صدر یون سک یول کے لیے…
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز شدید مندی کا رجحان رہا اور…
امریکی محکمہ انصاف نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خاتمے اور فوجی…