آبنائے ہرمز: ایرانی تیز رفتار کشتیوں کے حملوں سے عالمی جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ

آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فورسز کی جانب سے دو کنٹینر بردار جہازوں کو قبضے میں لینے کے واقعے نے امریکی دعووں کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایران کی بحری صلاحیتیں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ اس پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں کا دستہ اب بھی خطے میں ایک بڑا خطرہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز تسلیم کیا کہ اگرچہ ایران کی روایتی بحریہ کو کافی حد تک تباہ کیا جا چکا ہے تاہم ان کی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں بدستور فعال ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کشتیاں امریکی ناکہ بندی کے قریب آئیں تو انہیں فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقصد کے لیے وہی طریقہ کار اپنایا جائے گا جو کیریبین اور بحر الکاہل میں منشیات کے خلاف آپریشنز کے دوران استعمال کیا گیا جہاں فضائی حملوں میں کم از کم 110 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی کشتیاں عام تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ بھاری مشین گنوں، راکٹ لانچرز اور بعض صورتوں میں اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہیں۔ میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ڈائپلس کے مطابق یہ کشتیاں اب ایک مربوط عسکری نظام کا حصہ ہیں جس میں ساحلی میزائل، ڈرونز اور الیکٹرانک مداخلت شامل ہے تاکہ امریکی فیصلہ سازی کو سست کیا جا سکے۔

خشکی اور سمندر میں موجود ماہرین کے مطابق ایران کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں ایسی کشتیاں موجود ہیں جو ساحلی سرنگوں یا شہری جہازوں کے درمیان چھپائی گئی ہیں۔ ڈرائیڈ گلوبل کے سی ای او کوری رینسلم کے مطابق 28 فروری کو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً 100 کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ آٹھ اپریل کو جنگ بندی سے قبل ایران میزائل اور ڈرون حملوں پر انحصار کرتا تھا، لیکن اب یہ تیز رفتار کشتیاں ایرانی بحری حکمت عملی کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہیں۔ ایک ایرانی سیکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کشتیوں کی تیز رفتاری انہیں ہٹ اینڈ رن حملوں میں کامیابی فراہم کرتی ہے۔

دفاعی امور کے ماہر جیریمی بینی نے متنبہ کیا ہے کہ ان چھوٹی کشتیوں کو ختم کرنا ایران کی بڑی بحری تنصیبات کو تباہ کرنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کشتیاں جنگی جہازوں کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک سکتیں تاہم ان کا گوریلا انداز اور کثیر الجہتی حملے امریکی فضائیہ کے لیے بھی چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی شپنگ انڈسٹری میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور انشورنس کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

پریس ڈنر کے قریب فائرنگ: ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی پر دوبارہ سوالات اٹھ گئے

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے…

31 منٹس ago

ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان

محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے بارہ گھنٹوں کے دوران ملک کے…

36 منٹس ago

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ عمان کے بعد آج دوبارہ پاکستان آمد کا امکان

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان پہنچیں گے جس…

41 منٹس ago

یوکرین میں چرنوبل سانحے کی 40 ویں برسی، جنگ کے سائے میں یادگار تقریبات

یوکرین چرنوبل ایٹمی حادثے کی چالیسویں برسی ایسے وقت میں منا رہا ہے جب روس…

2 گھنٹے ago

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار، سفارتی پیش رفت کی امیدیں دم توڑ گئیں

امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا…

2 گھنٹے ago

پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

پنجاب بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر…

3 گھنٹے ago