متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ ابوظہبی اور تہران کے درمیان اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ درکار ہوگا۔ فرانس کے شہر شانٹیلی میں ورلڈ پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے خطے میں جاری تنازع کے دوران یو اے ای کو نشانہ بنانے کے بعد اعتماد کی بات کرنا ممکن نہیں ہے۔
انور گرگاش نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں 2800 میزائل اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جن میں سے 89 فیصد حملے شہریوں، شہری تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے خلیجی عرب ممالک کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ان کی نظر میں ان ممالک کی کوئی اہمیت نہیں ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔
اماراتی عہدیدار نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے لیے ایران اب ایک تزویراتی خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروری کے آخر میں ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جس کے نتیجے میں تہران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو ہدف بنایا۔
اگرچہ اس ماہ کے آغاز میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم پاکستان میں جاری امن مذاکرات گزشتہ چند روز سے تعطل کا شکار ہیں۔ جنگ بندی کے بعد امریکا اور ایران کی توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہو گئی ہے، جو دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا اہم ترین راستہ ہے۔ ایران نے جنگ کے ردعمل میں اس راستے کو عملی طور پر بند کر دیا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ انور گرگاش کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایران کی علاقائی حکمت عملی کے باعث خطے میں اسرائیلی اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ اور ایران کے مابین جاری مذاکرات کے تناظر میں…
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پیچیدہ بین الاقوامی سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود…
امریکی محکمہ انصاف نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا کے معزول رہنما نکولس مادورو کی…
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ابتدائی مرحلے کے پروسٹیٹ…
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اٹھارہ ماہ قبل پروسٹیٹ…
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اعلان…