واشنگٹن اور یورپی یونین کے درمیان اہم معدنیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک تزویراتی معاہدہ طے پا گیا ہے جسے عالمی سپلائی چین میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے پر دستخط امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور یورپی کمیشن کے نمائندے نے کیے۔
اس معاہدے کے تحت ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں کے لیے ناگزیر اہم معدنیات کی پیداوار اور ترسیل کے لیے غیر چینی سپلائرز کو ترجیح دی جائے گی۔
معاہدے کا بنیادی مقصد حساس صنعتوں میں کسی ایک ملک پر انحصار کم کرنا اور اسٹریٹجک معدنیات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کا یہ اقدام چین کے متبادل سپلائی چین قائم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس کا رجحان حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے اہم معدنیات کے شعبے میں مشترکہ محاذ بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جسے عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حرکیات میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…