واشنگٹن اور یورپی یونین کے درمیان اہم معدنیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک تزویراتی معاہدہ طے پا گیا ہے جسے عالمی سپلائی چین میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے پر دستخط امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور یورپی کمیشن کے نمائندے نے کیے۔
اس معاہدے کے تحت ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں کے لیے ناگزیر اہم معدنیات کی پیداوار اور ترسیل کے لیے غیر چینی سپلائرز کو ترجیح دی جائے گی۔
معاہدے کا بنیادی مقصد حساس صنعتوں میں کسی ایک ملک پر انحصار کم کرنا اور اسٹریٹجک معدنیات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کا یہ اقدام چین کے متبادل سپلائی چین قائم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس کا رجحان حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے اہم معدنیات کے شعبے میں مشترکہ محاذ بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جسے عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حرکیات میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جبکہ…
خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں قراقرم ہائی وے پر پیش آنے والے ایک افسوسناک…
جوہانسبرگ میں جنوبی افریقی حکام نے غیر ملکی شہریوں بالخصوص گھانا کے باشندوں کے خلاف…
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔…
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کے لیے 7 ارب…
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے تازہ حملوں کے نتیجے میں کم…