بیروت (ویب ڈیسک) حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے معنی قرار دے دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں کے باعث اس جنگ بندی کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فضائی حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں سے ملاقات کے بعد جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔ لبنان اور اسرائیل کے مابین موجودہ جنگ بندی معاہدے کی مدت اتوار کو ختم ہو رہی تھی۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی فیاض نے اس توسیع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اشتعال انگیزیوں، ہلاکتوں اور گولہ باری کے ماحول میں جنگ بندی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
علی فیاض نے واضح کیا کہ ہر اسرائیلی حملے کے جواب میں مزاحمتی تنظیم کو جوابی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حزب اللہ اس جنگ بندی معاہدے کا فریق نہیں ہے اور تنظیم نے لبنان اور اسرائیل کے مابین براہ راست رابطوں اور معاہدوں پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…