بیروت (ویب ڈیسک) حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے معنی قرار دے دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں کے باعث اس جنگ بندی کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فضائی حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں سے ملاقات کے بعد جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔ لبنان اور اسرائیل کے مابین موجودہ جنگ بندی معاہدے کی مدت اتوار کو ختم ہو رہی تھی۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی فیاض نے اس توسیع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اشتعال انگیزیوں، ہلاکتوں اور گولہ باری کے ماحول میں جنگ بندی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
علی فیاض نے واضح کیا کہ ہر اسرائیلی حملے کے جواب میں مزاحمتی تنظیم کو جوابی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حزب اللہ اس جنگ بندی معاہدے کا فریق نہیں ہے اور تنظیم نے لبنان اور اسرائیل کے مابین براہ راست رابطوں اور معاہدوں پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات کے…
صدر آصف علی زرداری 25 اپریل سے یکم مئی 2026 تک چین کا سرکاری دورہ…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کے نتیجے…
امریکی مذاکرات کاروں کا وفد ہفتے کے روز پاکستان روانہ ہو رہا ہے تاہم ایران…
پہلگام واقعے کو ایک برس مکمل ہونے کے باوجود پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے…
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے کینیڈا کی ایک کمیونٹی سے…