وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزم کے خلاف ابتدائی طور پر دو سنگین مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اٹارنی جینین پیرو کا کہنا ہے کہ ملزم پر آتشیں اسلحہ کے استعمال اور خطرناک ہتھیار کے ذریعے سرکاری اہلکار پر حملے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم تفتیش کے دوران مزید الزامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
اٹارنی جینین پیرو کے مطابق ملزم کو پیر کے روز وفاقی ضلعی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شواہد سے واضح ہے کہ ملزم زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے ارادے سے آیا تھا، تاہم تقریب کے مقام پر قائم چیک پوائنٹ کی بدولت کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا سیکرٹ سروس کا اہلکار اب خطرے سے باہر ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کے عبوری پولیس چیف جیفری کیرول نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چھریاں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس چیف کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم اکیلا تھا اور اس واقعے میں کسی اور کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ اب کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص تیزی سے میٹل ڈیٹیکٹرز کو عبور کر کے آگے بڑھتا ہے، جس پر وہاں موجود قانون نافذ کرنے والے اہلکار فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کے حوالے سے بھارت…
پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید 30 روز کی…
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے…
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے بارہ گھنٹوں کے دوران ملک کے…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان پہنچیں گے جس…
یوکرین چرنوبل ایٹمی حادثے کی چالیسویں برسی ایسے وقت میں منا رہا ہے جب روس…