یوکرین پر روسی حملوں میں 16 افراد ہلاک، چرنوبل کی برسی پر جوہری خطرات پر تشویش

یوکرین، روس اور مقبوضہ علاقوں میں جاری شدید جھڑپوں اور فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب چرنوبل جوہری حادثے کی 40 ویں برسی کے موقع پر جوہری تنصیبات کے قریب جاری فوجی کارروائیوں کے سنگین خطرات پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

علاقائی سربراہ اولیکساندر گانزا کے مطابق یوکرین کے شہر دنیپرو پر روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد نو تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب روس کے زیر قبضہ کریمیا کے ساحلی شہر سیواستوپول میں یوکرینی ڈرون حملے سے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

روس کی جانب سے تعینات لوہانسک کے گورنر لیونائیڈ پاسچنک نے بتایا ہے کہ یوکرینی ڈرون حملوں میں مزید تین افراد مارے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل ہفتے کے روز بھی دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں روس کے سرحدی علاقے بیلگوروڈ میں یوکرینی ڈرون حملے میں ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد عمل میں آئی ہیں۔

یوکرینی جنرل اسٹاف نے دعوی کیا ہے کہ ان کی افواج نے روس کے اندر یاروسلاول میں واقع ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ یہ ریفائنری سالانہ 15 ملین ٹن تیل کی پروسیسنگ کرتی ہے اور روسی فوج کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔ یوکرین نے حال ہی میں 1500 کلومیٹر تک مار کرنے والے ڈرون تیار کیے ہیں جنہیں روسی تیل کی تنصیبات کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے چرنوبل کی برسی پر انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اپنی جنگی کارروائیوں کے ذریعے دنیا کو ایک بار پھر انسانی ساختہ تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی اور ایرانی ساختہ شاہد ڈرون باقاعدگی سے جوہری پلانٹ کے اوپر سے گزرتے ہیں، جس سے جوہری دہشت گردی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کیف کے دورے کے دوران زور دیا کہ پلانٹ کے حفاظتی غلاف کی مرمت فوری طور پر شروع کی جانی چاہیے۔ ایجنسی کے مطابق گزشتہ برس ایک حملے کے بعد پلانٹ کا حفاظتی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے جس کی مرمت کے لیے یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی کو کم از کم 500 ملین یورو درکار ہیں۔

یوکرینی حکام کا الزام ہے کہ فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون نے ری ایکٹر نمبر 4 کے اوپر موجود دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کردہ حفاظتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم ماسکو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے کیف کی کارستانی قرار دیا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

یوکرین جنگ کا خاتمہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا پیوٹن اور زیلنسکی سے رابطوں کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے مابین جاری…

25 منٹس ago

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات

اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم…

1 گھنٹہ ago

فلسطینی بلدیاتی انتخابات: صدر محمود عباس کے حامیوں کی کامیابی، غزہ میں بھی نشستیں حاصل

فلسطینی میونسپل انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامیوں نے بڑی کامیابی حاصل کر لی…

1 گھنٹہ ago

صدر ٹرمپ کی پاکستان کی امن کوششوں کی ایک بار پھر تعریف، پاکستان کے لیے گہرے احترام کا اظہار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے…

1 گھنٹہ ago

اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو ہم سے رابطہ کرے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اگر ایران دونوں ممالک…

2 گھنٹے ago

اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے مزید سات قصبوں کے لیے انخلا کا حکم

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے سات قصبوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر انخلا…

2 گھنٹے ago