ٹرمپ انتظامیہ کا امریکی ریاستی انتخابی نظام میں وفاقی مداخلت بڑھانے کا فیصلہ

رائٹرز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی انتخابات میں وفاقی مداخلت بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کیں۔ تاریخی طور پر امریکی انتخابات کا انعقاد ریاستوں اور مقامی حکام کی ذمہ داری رہا ہے، تاہم نئی اطلاعات کے مطابق کم از کم آٹھ ریاستوں میں ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کرنے، تحقیقات کرنے اور انتخابی نظام تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

رواں سال جنوری میں اوہائیو کی فرینکلن کاؤنٹی کے الیکشن بورڈ کو ایک شخص کی کال موصول ہوئی جس نے خود کو محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا اہلکار ظاہر کیا اور فوری طور پر ووٹر ریکارڈ تک رسائی کا مطالبہ کیا۔ رائٹرز کے جائزے میں سامنے آنے والی ای میلز کے مطابق اس کے بعد آنے والے ہفتوں میں اسی طرح کی درخواستوں میں اضافہ ہوا۔ مذکورہ اہلکار نے درجنوں ووٹرز کے رجسٹریشن فارمز اور ووٹنگ کی تاریخ کا ریکارڈ طلب کیا، جس میں ڈرائیونگ لائسنس نمبرز اور دیگر حساس ذاتی معلومات شامل تھیں۔ مقامی حکام کو ان درخواستوں کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔

اس پیش رفت نے ریاستی اور مقامی انتظامیہ میں وفاقی مداخلت کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مینیسوٹا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ اسٹیو سائمن کا کہنا ہے کہ ریاستوں کو اب براہ راست یا بالواسطہ وفاقی مداخلت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر وفاقی اہلکاروں کی موجودگی یا انتخابی سازوسامان قبضے میں لینے جیسے امکانات کو نظر انداز کرنا غیر ذمہ داری ہوگی۔

دیگر ریاستوں کے انتخابی حکام نے بھی وفاقی تحقیقات سے پیدا ہونے والے دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کی تصدیق کی ہے۔ نیواڈا کی ڈگلس کاؤنٹی کی کلرک ایمی برگنز نے کہا کہ وفاقی نفاذ کا امکان ایک خوف کی فضا پیدا کر رہا ہے اور انہیں قانونی پیچیدگیوں کا خدشہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے کم از کم 20 موجودہ اور سابقہ عہدیدار انتخابات میں وفاقی جانچ پڑتال بڑھانے یا انتخابی دھاندلی کے دعووں کی حمایت میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان اقدامات میں انتخابی دفاتر پر وفاقی چھاپے اور ووٹر ڈیٹا کے لیے بار بار درخواستیں بھی شامل ہیں۔

انتخابی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدامات باقاعدہ وفاقی قبضے کے مترادف نہیں ہیں، لیکن یہ مختلف ریاستوں اور کاؤنٹیوں پر دباؤ ڈال کر آئینی حدود کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے پروفیسر رچرڈ ہیزن نے خبردار کیا کہ اگر انتخابات کا فیصلہ چند ایسی نشستوں پر منحصر ہوا جہاں مقابلہ متنازعہ ہو، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago