ایران پر میزائل حملے کی وائرل ویڈیو پرانی اور جھوٹی نکلی

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر منگل کے روز سے ایران نواز اکاؤنٹس کی جانب سے ایک ویڈیو وائرل کی جا رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایران پر جاری کشیدگی کے دوران ہونے والے میزائل حملوں کی فوٹیج ہے۔ تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور درحقیقت سات مارچ کو تہران کے آئل ڈپو پر اسرائیلی حملے کی ہے۔

خطے میں جاری تناؤ کے دوران اٹھائیس فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ فضائی حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے جواب میں تہران نے سات خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان کی ثالثی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کا اطلاق آٹھ اپریل سے ہونا تھا۔ دو ہفتوں پر محیط اس مشروط جنگ بندی میں اکیس اپریل کو توسیع کر دی گئی تھی تاکہ امن مذاکرات جاری رہ سکیں۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد تیرہ اپریل کو امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کا محاصرہ کر لیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق صرف انہی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی جو غیر ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کر رہے ہوں۔

منگل کے روز ایران نواز اکاؤنٹس نے وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایران پر بڑا میزائل حملہ ہوا ہے۔ ان پوسٹس میں لکھا گیا کہ تنازع ایک نئے موڑ پر پہنچ چکا ہے اور ایران کے لیے دعا کی اپیل کی گئی۔ ان ویڈیوز کو لاکھوں کی تعداد میں دیکھا گیا اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

حقائق کی جانچ کے لیے کیے گئے عمل میں جب مختلف عالمی میڈیا اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو آٹھ مارچ کو این ڈی ٹی وی پرافٹ پر نشر کی گئی تھی۔ اس ویڈیو کا عنوان تہران کے آئل ڈپو پر اسرائیلی حملے کے بعد لگنے والی آگ تھا۔

الجزیرہ نے بھی سات مارچ کو اسی واقعے کی رپورٹ شائع کی تھی جس میں دکھائی گئی عمارت اور ٹاور وہی ہیں جو وائرل ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے نائن نیوز نے بھی نو مارچ کو اپنی رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ یہ مناظر سات مارچ کو تہران میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے ہیں۔

آئی ویریفائی پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس فیکٹ چیک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وائرل ویڈیو کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے گمراہ کن سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ سی ای جے آئی بی اے اور یو این ڈی پی کے مشترکہ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago