ویانا سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے دعوی کیا ہے کہ ایران کا بیشتر افزودہ یورینیم تاحال اصفہان میں موجود ہے اور خدشہ ہے کہ اسے زیر زمین سرنگوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
رافیل گروسی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں کے اثرات واضح ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے باعث اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں معائنہ کا عمل معطل ہے اور شبہ ہے کہ جون 2025 میں تنازع شروع ہونے سے قبل ہی یورینیم کو سرنگوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ٹرکوں کو کنٹینرز لے کر سرنگوں میں داخل ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
آئی اے ای اے سربراہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایران سیاسی طور پر آمادہ ہو اور تہران کو مذاکرات کی اہمیت پر قائل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جلد دانشمندی کا مظاہرہ کرے اور معاہدے پر دستخط کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنازع کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی میں توسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایران اپنی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ ایران امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کے اس کے حق کو تسلیم کرے۔
ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تقریباً 440 کلوگرام تک پہنچ چکا ہے، جو مزید افزودگی کے بعد کئی جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
اگرچہ امریکا کی بنیاد برطانوی بادشاہت کے خلاف بغاوت پر رکھی گئی تھی، تاہم دونوں…
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ازبکستان کے صوبہ نوائی…
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر اب تک پچیس…
کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے جون 2026 کے امتحانی سلسلے کے دوران پیپر لیک ہونے کی…
برطانیہ کے شمال مغربی علاقے میں پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے احمدی ریلیجن…
اسلام آباد میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی…