تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نئے اسٹریٹجک دور کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازعات کے بعد صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں جس سے خطے کا سیکیورٹی اور سیاسی منظرنامہ بدل چکا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکہ کی خطے میں موجودگی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی اڈے اپنی حفاظت کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں اور ان پر انحصار کرنے والے ممالک کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق خلیج فارس کا مستقبل غیر ملکی افواج کی مداخلت کے بغیر ہی روشن اور خوشحال ہو سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کا مقدر مشترک ہے اور آبنائے ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ خطے کی تہذیب اور شناخت کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے اس آبی گزرگاہ کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر بیرونی طاقتوں کے غلبے کا دور ختم ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس خلیج فارس کے ساتھ طویل ترین ساحلی پٹی موجود ہے جو اس خطے میں تہران کے تاریخی اور اسٹریٹجک کردار کو مستحکم کرتی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی عوام نے علاقائی خود مختاری کے دفاع کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور اب خطہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بیرونی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں سمندری سیکیورٹی اور عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ایرانی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ خطے سے تمام رکاوٹیں دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…