افغان خواتین فٹبالرز کے لیے فیفا کے نئے قوانین تاریخی پیش رفت قرار

فیفا کی جانب سے افغانستان کی خواتین فٹ بالرز کو سرکاری میچوں میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ ایک تاریخی لمحہ اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کی جانب پیش رفت ہے۔ افغان ویمن فٹ بال ٹیم کی سابق کپتان خالدہ پوپل نے کوپن ہیگن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے جس کے بعد اب افغان خواتین کھلاڑی مستقبل میں ویمنز ورلڈ کپ اور اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کی اہل ہوں گی۔

خالدہ پوپل نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح جب افغان لڑکیاں بیدار ہوں گی تو وہ فخر سے کہہ سکیں گی کہ انہیں کھیلنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو شاندار اور ناقابل یقین قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ افغان ویمن نیشنل ٹیم کی بنیاد ۲۰۰۷ میں کابل میں رکھی گئی تھی۔

سال ۲۰۲۱ میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً ۱۰۰ کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن منتقل کیا گیا تھا، جبکہ ٹیم کے دیگر ارکان یورپ، برطانیہ اور امریکہ میں مقیم ہیں۔ افغانستان میں خواتین کے کھیلوں پر پابندی عائد ہے اور خفیہ طور پر جاری ورزش کے گروپس کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔

فیفا کے سابقہ قوانین کے تحت افغان ٹیم کو سرکاری مقابلوں میں شرکت کے لیے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان فٹ بال فیڈریشن کی منظوری درکار تھی جو ناممکن تھی۔ تاہم اب فیفا نے اپنے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے ساتھ معاہدے کے تحت افغان ٹیم کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اصول دیگر ان ٹیموں پر بھی لاگو ہوگا جو غیر معمولی حالات کے باعث اپنی قومی فیڈریشن کے ساتھ رجسٹر ہونے سے قاصر ہیں۔

خالدہ پوپل کا کہنا ہے کہ یہ طویل لڑائی تھی اور ہمیں خوشی ہے کہ یہ تاریخ صرف افغان خواتین کے لیے نہیں بلکہ ان تمام ٹیموں کے لیے رقم ہوئی ہے جو مستقبل میں ایسے حالات کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اب افغان خواتین کھلاڑیوں کی کوشش ہوگی کہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ٹیلنٹ کو اکٹھا کر کے ایک مضبوط ٹیم تشکیل دی جائے۔ کھلاڑیوں کے ٹرائلز کا عمل شروع کیا جا رہا ہے جس کے بعد جون میں ممکنہ میچ کھیلا جائے گا۔

اگرچہ افغانستان کی ٹیم ۲۰۲۷ کے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکے گی، تاہم وہ مستقبل کے ایڈیشنز میں حصہ لینے کی اہل ہوگی۔ فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو نے اس فیصلے کو عالمی کھیل میں ایک طاقتور اور بے مثال قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیفا نے ان کھلاڑیوں کی آواز سنی ہے اور ہر لڑکی اور خاتون کے فٹ بال کھیلنے کے حق کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کی ہے۔ فیفا کو ان باہمت کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago