ایران اور بحیرہ احمر میں کشیدگی: عالمی تجارتی سمندری راستوں کی ازسرنو تشکیل

آبنائے ہرمز کی بندش اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی راستے تبدیل ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں افریقہ عالمی کنٹینر شپنگ کا نیا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ لاجسٹک اور میری ٹائم ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے جاری ناکہ بندی نے شپنگ کمپنیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ غذائی اجناس اور تیار شدہ مصنوعات کی ترسیل کے لیے متبادل زمینی راستے تلاش کریں۔

سعودی عرب کی بندرگاہ جدہ اب ایک نئے علاقائی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جہاں ایم ایس سی، سی ایم اے سی جی ایم، مئیرسک اور کوسکو جیسی بڑی کمپنیاں نہر سویز کے راستے سامان پہنچا رہی ہیں۔ یہاں سے کارگو ٹرکوں کے ذریعے شارجہ، بحرین اور کویت پہنچایا جا رہا ہے جہاں گزشتہ دو ماہ سے سمندری راستے سے ترسیل معطل ہے۔ اوورسی کے شریک بانی آرتھر بیریلاس ڈی تھی کا کہنا ہے کہ جدہ بندرگاہ پر بوجھ بڑھنے سے شدید رش پیدا ہو گیا ہے۔ کیپلر میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو گیارہ کنٹینر جہاز جدہ میں لنگر انداز تھے جبکہ نو جہاز انتظار میں تھے، جنہیں اترنے کے لیے اوسطاً 36 گھنٹے لگ رہے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے 17 گھنٹوں کے مقابلے میں دوگنا ہے۔

شپنگ کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے باہر عمان کی بندرگاہ صحار اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں خورفکان اور فجیرہ کو استعمال کریں گی۔ اسی طرح اردن کی بندرگاہ عقبہ عراق کے شہروں بغداد اور بصرہ تک سامان پہنچانے کا ذریعہ بن رہی ہے جبکہ ترکی کا راستہ بھی شمالی عراق کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بحیرہ احمر میں کشیدگی کا آغاز 19 نومبر 2023 کو حوثی ملیشیا کی جانب سے کنٹینر جہازوں پر حملوں کے بعد ہوا جس کے بعد سے جہازوں کا رخ تبدیل کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ اب جہاز افریقہ کے مشرقی ساحل اور کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد چکر لگا کر یورپ اور بحیرہ روم کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ لوئس ڈریفس آرماٹرز کے چیئرمین ایڈورڈ لوئس کا کہنا ہے کہ خلیجی صورتحال کے پیش نظر حالات جلد بہتر ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ایفیسو کے ماہر ایو گیلو کے مطابق 2023 کے مقابلے میں بحیرہ احمر سے گزرنے والی 70 فیصد فریٹ ٹریفک اب کیپ آف گڈ ہوپ کا رخ کر رہی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پورٹ واچ پلیٹ فارم کے مطابق کیپ آف گڈ ہوپ سے گزرنے والی تجارتی جہازوں کی تعداد تین سال میں تین گنا بڑھ چکی ہے جبکہ باب المندب سے گزرنے والی ٹریفک نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ رواں سال یکم مارچ سے 24 اپریل کے درمیان روزانہ اوسطاً 20 تجارتی جہاز کیپ آف گڈ ہوپ سے گزرے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد صرف چھ تھی۔

اس صورتحال کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے درمیان ترسیل کا وقت اوسطاً دو ہفتے بڑھ گیا ہے اور ایندھن کی کھپت میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں 40 فٹ کے معیاری کنٹینر کا کرایہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 14 فیصد بڑھ چکا ہے۔ افریقی بندرگاہوں پر سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں تاہم مصر کو نہر سویز کی آمدنی میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سائیکلوپ کے مطابق 2024 میں مصر کو سات ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو کہ 2023 کے مقابلے میں 60 فیصد سے زائد کی کمی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago