غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ایک سو سے زائد حامیوں کو اسرائیلی افواج کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لینے کے بعد یونان کے جزیرے کریٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ سرگرم کارکن گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جس کا مقصد غزہ پر عائد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑ کر انسانی امداد پہنچانا ہے۔ یہ بحری قافلہ بارہ اپریل کو اسپین کی بندرگاہ بارسلونا سے روانہ ہوا تھا۔
منتظمین کے مطابق جمعہ کے روز اسرائیلی بحری فوج نے ایک سو اڑسٹھ ارکان کو یونانی کشتیوں کے حوالے کیا جنہیں ساحل پر پہنچایا گیا جہاں ان کے لیے بسیں اور ایمبولینس موجود تھیں۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کے منتظمین کو پیشہ ور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ پر قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا۔
اسرائیلی حکام نے دو سرگرم کارکنوں سیف ابو کشک اور تھیاگو اویلا کو حراست میں لے لیا ہے۔ اسپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل البارس نے اسرائیلی اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سیف ابو کشک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ افراد دہشت گرد تنظیم سے مبینہ تعلق اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبے میں زیر حراست ہیں اور انہیں تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں اسرائیلی بحری جہاز پر عملے کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو خوراک اور پانی سے محروم رکھا گیا اور انہیں چالیس گھنٹے تک فرش پر بٹھائے رکھا گیا جو جان بوجھ کر پانی سے بھرا گیا تھا۔ منتظمین کے مطابق احتجاج کرنے والے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کئی افراد کی ناک کی ہڈی ٹوٹنے اور پسلیاں فریکچر ہونے کے واقعات پیش آئے۔ اسرائیل کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
جرمنی اور اٹلی کی وزارت خارجہ نے مشترکہ بیان میں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بائیس کشتیوں کے قبضے کے باوجود سینتالیس دیگر کشتیاں کریٹ کے جنوب میں موجود ہیں جو غزہ جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ہر کشتی پر ایک ٹن خوراک اور طبی سامان موجود ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے فلوٹیلا کو حماس نواز قرار دیتے ہوئے منتظمین کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے تاہم سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ فلسطینی حقوق کی وکالت کو غلط طور پر حماس کی حمایت سے جوڑ رہے ہیں۔ غزہ میں انسانی صورتحال بدستور سنگین ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے یا تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیل غزہ میں امداد روکنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔
ازبکستان کے شہر خیوا میں تیسرے بین الاقوامی لازگی ڈانس فیسٹیول کا شاندار اختتام ہو…
لندن میں دو یہودی شہریوں کو چاقو کے وار سے زخمی کرنے کے واقعے کے…
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی لیبر بیورو کے صدر چوہدری منظور احمد نے مطالبہ…
فتنہ الخوارج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ…
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بحیرہ روم میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو…