نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اسرائیل کی جانب سے گلوبل صمود ہیومینٹیرین ایڈ فلوٹیلا میں سوار متعدد صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کے عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اسے اغوا کے مترادف قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سی پی جی کا کہنا ہے کہ اسرائیل تمام صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل حراست میں لیے گئے صحافیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرے اور ان کی مکمل حفاظت کی ضمانت دے۔
سی پی جی کے مطابق یہ صحافی بین الاقوامی پانیوں میں موجود ان بحری جہازوں پر سوار تھے جو گلوبل صمود امدادی قافلے کا حصہ تھے۔ یہ قافلہ غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہا تھا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا پر یہ کارروائی 30 اپریل کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب اس وقت کی گئی جب یہ غزہ سے تقریباً 600 ناٹیکل میل کی دوری پر تھا۔ اس سے قبل منتظمین نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے 211 کارکنوں کو اغوا کیا اور 22 بحری جہازوں کو روکا ہے۔
امداد لے جانے والے پہلے جہاز 12 اپریل کو بارسلونا سے جبکہ مرکزی بیڑا 26 اپریل کو اطالوی جزیرے سسلی سے روانہ ہوا تھا۔ اس مشن کا مقصد غزہ پر اسرائیل کی جانب سے برسوں سے عائد ناکہ بندی کو توڑنا تھا۔
غزہ کی پٹی پر 2007 سے اسرائیل کی جانب سے عائد سخت ناکہ بندی کے باعث وہاں کے 24 لاکھ افراد قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ محصور علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…