اسرائیلی عدالت نے غزہ جانے والے امدادی قافلے کے دوران گرفتار کیے گئے دو غیر ملکی کارکنوں کی حراست میں مزید دو روز کی توسیع کر دی ہے۔ وکلاء کے مطابق ہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیلین شہری تھیاگو اویلا کو بدھ کی شب بین الاقوامی پانیوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالتی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ دونوں کارکنوں کا ریمانڈ پانچ مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں افراد گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جو بارسلونا سے بارہ اپریل کو غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ کے مطابق اسرائیلی حکام نے چار روزہ توسیع کی استدعا کی تھی، جن پر جنگ کے دوران دشمن کی مدد، غیر ملکی ایجنٹ سے رابطے اور دہشت گرد تنظیموں کو خدمات فراہم کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ملزمان کی وکیل ہدیٰ ابو صالح نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گرفتاری قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہونے کے باعث غیر قانونی ہے۔ انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے موکلین کا مقصد صرف غزہ کے عام شہریوں تک امداد پہنچانا تھا نہ کہ کسی عسکریت پسند گروپ کی معاونت کرنا۔
وکیل نے مزید دعویٰ کیا کہ حراست کے بعد دونوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جمعرات کی صبح تک ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہتھکڑیاں لگائے رکھی گئیں۔
دوسری جانب سپین اور برازیل کی حکومتیں ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے قافلے کے منتظمین کو پیشہ ور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ اس معاملے پر اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
برلن میں جرمن وزیر خارجہ جوہن ویڈے فُل نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی…
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین…
نوبل انعام یافتہ قیدی نرگس محمدی کی طبیعت تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے، جس…
لبنان کے جنوبی علاقوں میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز کے تازہ حملوں میں…
ایرانی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قائنی نے غزہ کے لیے انسانی امداد…
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کی بحالی اور…