ایران نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ اسے پاکستان کے توسط سے موصول ہونے والی امریکی تجاویز کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ یہ پیش رفت چودہ نکاتی امن منصوبے کے تناظر میں ہے اور اس کا جوہری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے بھیجا گیا جواب اسلام آباد کے ذریعے تہران پہنچایا گیا ہے جس پر حکام کی جانب سے تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مجوزہ منصوبہ مکمل طور پر علاقائی تنازعات کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کی بنیاد رکھنے پر مرکوز ہے۔
ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس مرحلے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کسی قسم کے جوہری مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے بدستور قائم ہیں۔
ایران کے چودہ نکاتی منصوبے میں شامل اہم مطالبات میں ایرانی سرحدوں کے قریب امریکی عسکری موجودگی کا خاتمہ اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیوں کا فوری اٹھایا جانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
تہران کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس جامع معاہدے کو تیس روز کے اندر حتمی شکل دی جانی چاہیے، جبکہ ان کا زور محض جنگ بندی کے بجائے دشمنی کے مکمل خاتمے پر ہے۔
پشاور زلمی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں حیدرآباد کنگز مین…
روہیلاں والی کی گلی میں ایک خاتون نے نیم بے ہوشی کی حالت میں بچے…
تہران (ویب ڈیسک) ایران کی پارلیمنٹ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی…
ایران کے ساحلی شہر سیرک کے مغرب میں ایک کارگو جہاز پر چھوٹی کشتیوں کے…
یوکرین نے اتوار کے روز روس کے تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو ڈرون حملوں…
اسرائیلی عدالت نے غزہ جانے والے امدادی قافلے میں شامل دو غیر ملکی کارکنوں کے…