لبرٹی میڈیا کی ملکیت فارمولا ون اور اس کی 11 ٹیموں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس نے اس پہلے سے ہی ٹیکنالوجی سے لیس کھیل کو مزید جدید بنا دیا ہے۔ ریسرچ فرم ایمپیئر اینالائسز کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران اے آئی کے آٹھ نئے معاہدے کیے گئے ہیں۔
نو بار کنسٹرکٹرز چیمپئن رہنے والی ولیمز ایف ون ٹیم نے اپنی ٹیم کے آپریشنز اور ریسنگ حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے اے آئی کمپنی اینتھروپک کے کلاڈ ماڈل سے اشتراک کیا ہے۔ ولیمز کے بورڈ ایڈوائزر پیٹر کینین کا کہنا ہے کہ یہ صرف کاروں یا بل بورڈز پر اشتہاری اسٹیکرز لگانے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ٹیم کو دوبارہ بلندیوں پر لے جانے کے سفر میں ایک اہم فرق ثابت ہوگا۔
ماضی میں فارمولا ون کاروں پر تمباکو بنانے والی کمپنیوں کے اشتہارات کا غلبہ ہوتا تھا، لیکن اب یہ شراکت داریاں ایسی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مرکوز ہیں جو ٹیموں کو ڈیٹا سیٹس کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اینتھروپک کے ساتھ مل کر ولیمز اپنی کاروباری صلاحیتوں کو بہتر بنا رہی ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے درست استعمال سے مسابقتی میدان میں اپنی پوزیشن مستحکم کی جا سکے۔
مصنوعی ذہانت ٹیموں کے لیے نئے ضوابط اور 215 ملین ڈالر کی لاگت کی حد (کاسٹ کیپ) کے اندر رہ کر کام کرنے کا ایک کلیدی ذریعہ بن گئی ہے۔ ایمپیئر اینالائسز کے سینئر تجزیہ کار ایڈم لیوس کے مطابق اے آئی مصنوعات کی کارکردگی میں اضافہ ٹیموں اور اے آئی برانڈز کے درمیان ایک فطری ہم آہنگی پیدا کر رہی ہے۔
اسپانسر یونائیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سیزن میں ایف ون ٹیموں کے اخراجات میں ٹیکنالوجی سرفہرست رہی، جو 41 فیصد اضافے کے ساتھ 769 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔ اے آئی اور مشین لرننگ سے وابستہ کمپنیاں اب نئے اسپانسرشپ سرمایہ کاروں میں شامل ہیں، جن میں 65 ارب ڈالر مالیت کی کلاؤڈ انفراسٹرکچر کمپنی کور ویو بھی شامل ہے جس کا ایسٹن مارٹن ایف ون ٹیم کے ساتھ معاہدہ ہے۔
سال 2025 میں فارمولا ون کی کل اسپانسرشپ 2.54 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو اسے امریکی نیشنل فٹ بال لیگ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آمدنی والا کھیلوں کا ادارہ بناتی ہے۔ اے آئی انتظامی امور اور تکنیکی ضوابط کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے، جس سے انجینئرز کو ریس کے دوران ایسے فوری فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے جو دہائیوں قبل ناممکن تھے۔
ریڈ بل ریسنگ کے گروپ پارٹنرشپ لیڈ جیک ہیرنگٹن کا کہنا ہے کہ اے آئی اب صرف معلومات تلاش کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ٹیم کو فیصلے کرنے میں بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔ میکس ورسٹاپن کی ٹیم ریڈ بل نے 494 ارب ڈالر مالیت کی سافٹ ویئر کمپنی اوریکل کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تاکہ انجینئرز اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکیں۔
گوگل جیسی بڑی کمپنیاں بھی فارمولا ون کو اپنے اے آئی مصنوعات کے فروغ کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ میکلیرن کے ساتھ گوگل کی شراکت داری اب پکسل سے منتقل ہو کر گوگل جیمنی نامی جنریٹو اے آئی ٹول تک پہنچ چکی ہے۔
فارمولا ون انتظامیہ خود بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہے۔ ایمیزون ویب سروسز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے لائیو ٹیلی ویژن براڈکاسٹنگ میں جنریٹو اے آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مونٹریال ٹرافی کے ڈیزائن میں بھی اس کی مدد لی گئی ہے۔
لینووو کے گلوبل چیف انفارمیشن آفیسر آرتھر ہو کے مطابق فارمولا ون میں جدید ترین ٹیکنالوجی کی کبھی نہ ختم ہونے والی پیاس ہے، اور لینووو اپنے اے آئی پی سی اور دیگر آلات کے ذریعے ریس کے انعقاد اور ٹیموں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں معاونت کر رہی ہے۔
نوبیل امن انعام یافتہ ایرانی کارکن نرگس محمدی کی طبیعت تشویشناک حد تک بگڑ گئی…
لاہور کو بچوں کے لیے محفوظ اور دوستانہ شہر بنانے کے لیے پنجاب حکومت نے…
محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز کراچی کا درجہ حرارت 44…
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز…
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی…
ڈیٹرائٹ پسٹنز نے اتوار کو اورلینڈو میجک کو 94-116 کے بڑے مارجن سے شکست دے…