امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں منشیات کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک کشتی پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پیر کے روز ہونے والا یہ حملہ ستمبر کے اوائل سے جاری اس مہم کا تسلسل ہے جس کے تحت لاطینی امریکہ کے سمندری حدود میں مبینہ اسمگلروں کی کشتیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس مہم کے دوران اب تک مجموعی طور پر 188 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
امریکی سدرن کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی ترسیل کے معروف راستوں پر کی گئی ہے۔ حکام نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک کشتی کو دھماکے کے بعد شعلوں میں گھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی فوج کی جانب سے اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ نشانہ بننے والی کشتیوں میں منشیات موجود تھیں۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کے باوجود، حالیہ ہفتوں میں ان حملوں کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ میں کارٹیلز کے ساتھ مسلح تصادم کی حالت میں ہے اور یہ اقدامات منشیات کی روک تھام اور امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
دوسری جانب ناقدین نے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں تیز کی گئی ہیں جب خطے میں امریکی فوج کی موجودگی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس سے قبل جنوری میں ایک بڑے آپریشن کے دوران وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کے چیئرمین غلام حسین سوہو نے میٹرک کے امتحانات میں…
خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے مالیاتی اور توانائی کے امور میں…
عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ منگل کے روز…
واشنگٹن کی جانب سے چین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بیجنگ نے غیر…
دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کے حصول کا عمل چار روز کی بندش کے بعد…
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے امریکا اور ایران…