امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کی عسکری صلاحیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اب ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج کی طاقت اب محض معمولی رہ گئی ہے اور تہران عوامی سطح پر جارحانہ بیانات دینے کے باوجود پس پردہ امریکا کے ساتھ کسی معاہدے کا خواہشمند ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام کھیل کھیل رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ڈیل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ جب کسی ملک کی عسکری قوت ختم ہو جائے تو اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ کوئی لڑائی ہوتی تو اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔
علاقے میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اسے انتہائی مؤثر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناکہ بندی فولاد کی طرح مضبوط ہے اور کوئی بھی اسے چیلنج کرنے کی جرات نہیں کرے گا، اور یہ حکمت عملی بہت بہتر کام کر رہی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ ایران کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات درکار ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کا علم وقت آنے پر ہو جائے گا کیونکہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ انہیں کیا نہیں کرنا ہے۔ امریکی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو اب سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہئیں کیونکہ ان کی انا انہیں حقیقت پسندی سے دور رکھے ہوئے ہے۔
تہران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا…
ایران سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل مسلسل چھیاسٹھویں روز بھی جاری رہا۔…
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے معرکہ…
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے ساتھ آہنی اور…
ایمسٹرڈیم دنیا کا پہلا دارالحکومت بن گیا ہے جہاں عوامی مقامات پر گوشت اور فاسل…
اسلام آباد میں وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب کے دوران…