جرمنی کے مغربی قصبے سنزیگ میں واقع ایک بینک برانچ میں مسلح افراد نے کیش ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور سمیت متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح سات بجے پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بینک کے اندر ایک سے زائد ملزمان اور یرغمالی موجود ہو سکتے ہیں تاہم صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔
پولیس نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ محصور علاقے کے باہر موجود عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے تاہم شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہر کے مرکز کا رخ کرنے سے گریز کریں اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے باز رہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مشتبہ شخص نے بینک کے باہر موجود ملازم کو دھمکایا اور اسے زبردستی عمارت کے اندر لے گیا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم اور بینک کا ملازم اس وقت والٹ ایریا میں موجود ہیں۔ پولیس ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بینک کے اندر کتنے ملزمان یا یرغمالی موجود ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری بینک کے باہر تعینات ہے۔ جائے وقوعہ پر بینک کی بکتر بند گاڑی مرکزی دروازے کے قریب کھڑی دیکھی جا سکتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…